سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ یا خفیہ، فیصلہ پیر کو ہوگا

فوٹو: آن لائن

سپریم کورٹ سینیٹ الیکشن کے طریقہ کار سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی محفوظ کردہ رائے یکم مارچ کو سنائے گی۔

وفاقی حکومت نے سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کر رکھا ہے۔ حکومت کی خواہش کی ہے اوپن بیلٹ کے ذریعے انتخابات منعقد کیے جائیں جبکہ الیکشن کمیشن اور اپوزیشن نے اس کی مخالفت کی ہے۔

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو جمع کرائے گئے اپنے جواب میں واضح کیا ہے کہ سینیٹ الیکشن کا طریقہ کار آئین میں واضح ہے۔ اوپن بیلٹ کیلئے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر رضا ربانی، فاروق ایچ نائک اور وکلا تنظیموں کے نمائندوں نے بھی عدالت میں پیش ہوکر خفیہ بیلٹ کے حق میں دلائل دیے جبکہ اٹارنی جنرل نے اوپن بیلٹ کی حمایت کی۔

سپریم کورٹ نے فریقین کو سن کر 25 فروری کو اپنی رائے محفوظ کی تھی۔ آخری سماعت پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے گزارش کی تھی معزز عدالت 28 فروری تک اپنی رائے سنا دے تاکہ الیکشن کمیشن 3 مارچ تک انتظامات مکمل کرسکے۔

ہفتے کو سپریم کورٹ نے اگلے ہفتے کی کاز لسٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی ریفرنس پر یکم مارچ کو سپریم کورٹ کی رائے سنائے جائے گی۔