سینیٹ الیکشن خفیہ ووٹنگ سے ہی ہونگے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے واضح کردیا ہے کہ موجودہ سینیٹ انتخابات پرانے طریقے سےہی ہونگے اورسپریم کورٹ کی رائےپرمن وعن عمل کیا جائے گا۔

منگل کی صبح الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ انتخابات کی شفافیت کیلئے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ سینیٹ امیدواروں کے لیے انتخابی مہم کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ انتخابی مہم چلانے پرکرپٹ پریکٹسز کے تحت کارروائی  ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ امیدوار اور سیاسی جماعتیں پرامن ،منصفانہ انتخابات کےلیےقانون پرعمل کریں۔سینیٹ انتخابات کی 37 نشستوں پر ووٹنگ کل بروز بدھ کو ہوگی۔

پیر کو سپریم کورٹ نے سینیٹ الیکشن پراپنی رائےدیتے ہوئے کہا کہ  سینیٹ انتخابات آئین اور قانون کے تحت ہی ہونگے۔سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے نہیں کرائے جا سکتے۔عدالت عظمی کے لارجر بینچ میں 4-1 کی اکثریت سے فیصلہ سنایا گیا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے رائے سے اختلاف کیا۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے محفوظ رائے پڑھ کر سنائی۔

سینیٹ انتخابات:سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئندہے،فیصل جاوید

اپنی رائے میں عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کیلئے تمام اقدامات کر سکتا ہے۔ انتخابی عمل سے کرپشن ختم کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ ووٹ ہمیشہ کیلئے خفیہ نہیں رہ سکتا۔ انتخابی عمل سے کرپشن ختم کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ الیکشن کمیشن کرپشن کے خاتمے کیلئے ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کرسکتا ہے۔

الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس موثرنہیں رہا،اٹارنی جنرل

عدالت نے بتایا کہ تمام ادارے الیکشن کمیشن کیساتھ تعاون کے پابند ہیں۔ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کرسکتی ہے۔ سینیٹ کے الیکشن آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت ہی ہونگے۔ قبل ازیں ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے سوال صرف آرٹیکل 226 کے نفاذ کا معاملہ ہے، کیا وجہ ہے کہ انتخابی عمل سےکرپشن کے خاتمے کے لیے ترمیم نہیں کی جا رہی؟ انتخابی عمل شفاف بنانے کیلئے پارلیمنٹ میں قرار دادیں منظور ہوتی ہیں۔

متعلقہ خبریں