سینیٹ انتخابات کےشیڈول میں ترمیم کردی گئی

سینیٹ انتخابات کے شیڈول میں ترمیم کرتےہوئےکاغذات نامزدگی جمع کرانے کا وقت بڑھا دیا گیا ہے۔

تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ 15 فروری تک بڑھائی گئی ہے۔کاغذات نامزدگی کیساتھ پارٹی ٹکٹ لگانا لازمی ہوگا۔ نامزد امیدواروں کی فہرست 16 فروری کو جاری کی جائے گی۔ کاغذات کی جانچ پڑتال 17 سے 18 فروری تک ہوگی۔ کاغذات پر اپیلیں 20 فروری تک دائر کی جاسکیں گی۔23 فروری تک اپیلوں کو نمٹایا جائے گا۔ امیدواروں کی حتمی فہرست 24 فروری کو جاری کی جائے گی۔ 25 فروری تک امیدوارکاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے۔

الیکشن کمیشن کو تحریری اور زبانی طور پر امیدواروں کی جانب سے شیڈول پر اعتراضات اور تحفظات موصول ہوئے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ بینک اکاؤنٹ سمیت دیگر امور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔

سینیٹ انتخابات کے لیےریٹرننگ افسران اورپولنگ افسران کی تقرری کی جاچکی ہے۔اسلام آبادمیں اسپیشل سیکریٹری ظفراقبال ریٹرننگ افسر ہوں گےجبکہ شمشاد خان، شاہد اقبال، آصف علی یاسین ودیگراسلام آباد کے پولنگ افسران مقرر کیےگئے۔صوبائی الیکشن کمشنراعجازانورچوہان سندھ،صوبائی الیکشن کمشنرغلام اسرار خان پنجاب، صوبائی الیکشن کمشنر شریف اللہ خیبر پختونخوا اور صوبائی الیکشن کمشنر محمد رازق بلوچستان کے ریٹرننگ افسر مقرر کیے گئے۔

صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے ہفتہ 6 فروری کو سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے لیے صدارتی آرڈیننس پر دستخط کیے تھے۔صدارتی آرڈیننس میں الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 122 میں ترمیم کی گئی  جبکہ آرڈیننس کو آئین کی شق 186 کے تحت سپریم کورٹ کی رائے سے مشروط کیا گیا ہے۔

سینیٹ انتخابات:پیپلزپارٹی پارلیمانی بورڈ نےامیدواروں کی منظوری دےدی

آرڈیننس کےتحت بیلٹ پیپرکی پشت پرووٹر کا نام درج کرنا لازم ہوگا۔ الیکشن کمیشن کویہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ پارٹی سربراہ یا اس کےنمائندےکی درخواست پر ووٹ دکھاسکے گا۔

آزادامیدواروں کےسوا باقی تمام امیدواروں کےلیےپارٹی ٹکٹ فراہم کرنا لازم ہوگا۔الیکشن کمیشن نےانتخابی اخراجات کی حد 15 لاکھ روپےمقررکی ہے۔انتخابی اخراجات کےلیےامیدوار بینک اکاؤنٹس کھلوائیں اور بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپےسےزائد رقم نہ رکھی جائے۔

سینیٹ انتخابات:پی ٹی آئی اميدواروں کےنام سامنےآگئے

 ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے کل اراکین کی تعداد 104ہے۔ ایوان میں چاروں صوبوں سےکُل 23 ارکان ہیں جن میں سے 14 عمومی ارکان، 4 خواتین، 4 ٹیکنوکریٹ اور 1 اقلیتی رکن ہے۔فاٹا سے 8 عمومی ارکان سینیٹ کا حصہ ہیں۔ اسلام آباد سے کُل 4 ارکان ہیں جن میں سے 2 عمومی، جب کہ ایک خاتون اور ایک ہی ٹیکنوکریٹ رکن ہے۔

متعلقہ خبریں