سینیٹ انتخابات کے غیر سرکاری نتائج

حفیظ شیخ اور یوسف رضا کے درمیان سخت مقابلہ

سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے امیدوار یوسف رضا گیلانی نے حکومتی اتحاد کے حفیظ شیخ کو شکت دے کر بڑا اپ سیٹ کردیا۔ غیرسرکاری نتائج کے مطابق یوسف رضا گیلانی کو 169 اور حفیظ شیخ کو 164 ووٹ ملے۔ دوسری نشست پر تحریک انصاف کی فوزیہ ارشد کامیاب قرار پائی ہیں۔

واضح رہے کہ اپوزیشن کے قومی اسمبلی میں 160 ارکان ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کو بقیہ 9 ووٹ حکومتی ارکان نے دیے ہیں۔ حفیظ شیخ کی درخواست پر دوبارہ گنتی بھی کرائی گئی مگر یوسف رضا گیلانی دوبارہ کامیاب قرار پائے۔

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے اعلان کیا ہے کہ پانچ ووٹ کا فرق ہے۔ تحریک انصاف اس نتیجے کو چیلنج کرے گی۔

دوسری جانب صوبوں سے غیر سرکاری نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

بلوچستان

جنرل سیٹ پر جمعیت علمائے اسلام کے غفور حیدری، بلوچستان نیشنل پارٹی کےامیدوار محمد قاسم، بلوچستان عوامی پارٹی کے سرفراز احمد بگٹی، منظور احمد کاکڑ، پرنس احمد عمر احمدزئی اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ارباب عمر فاروق کامیاب ہوگئے ہیں۔

ٹیکنوکریٹ کی نشست پر جے یو آئی کے کامران مرتضٰی کامیاب ہوگئے ہیں اور باپ کے سعید احمد ہاشمی کامیاب قرار پائے۔

خواتین کی نشستوں پر باپ کی ثمینہ ممتاز اور پی ڈی ایم کی نسیمہ احسان کامیاب ہوئی ہیں جبکہ اقلیتی نشست پر باپ کے دھنیش کمار جیت گئے ہیں۔

سندھ

پیپلز پارٹی کی پلوشہ خان، سلیم مانڈوی والا، شیری رحمان، جام مہتاب ڈہر، فاروق ایچ نائیک، متحدہ قومی موومنٹ کی خالدہ اطیب، تحریک انصاف کے سیف اللہ ابڑو کامیاب۔

پولنگ کا وقت خت، گنتی جاری

سینیٹ انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا جس کے بعد الیکشن کمیشن کے عملہ نے ووٹوں کی گنتی شروع کردی ہے۔ قومی اسمبلی میں پریزائیڈنگ آفیسر ( چیف الیکشن کمشنر) نے اس موقع پر پولنگ کا وقت ختم ہونے کا اعلان کیا۔

ایوان بالا کے انتخابات کیلئے صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفہ کے پولنگ جاری رہی۔ اس دوران، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور قومی اسمبلی کے ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جبکہ پنجاب میں تمام جماعتوں کے سینیٹرز بلامقابلہ کامیاب ہوگئے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کے تمام 65 ارکان نے ووٹ استعمال کیا۔ سندھ اسمبلی کے 168 میں سے 167 نے ووٹ ڈالا جبکہ جماعت اسلامی کے رکن عبدالرشید نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے 145 ارکان میں سے 130 ارکان نے ووٹ ڈالا جبکہ دیگر ارکان پہنچ نہ سکے۔

قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے رکن عبدالاکبر چترالی نے اپنا ووٹ استعمال نہیں کیا۔ باقی تمام ارکان نے ووٹ ڈالے۔

ملک میں سینیٹ انتخابات کی 37 نشستوں کے لیے پولنگ خفیہ رائے شماری کے تحت جاری ہے۔ پنجاب میں تمام سینیٹرز بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔ پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضاگیلانی اور حکمران جماعت پی ٹی آئی کے امیدوار حفیظ شیخ کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صبح 9 بجے شروع ہونے والی پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ اسلام آباد میں ووٹنگ کیلئے 2 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کا عملہ پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود ہے۔ ارکان اسمبلی اور صحافیوں کے موبائل پولنگ بوتھ کے اندر لے جانے پر پابندی ہے۔

تحریک انصاف کے رہنماء فیصل واؤڈا نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا جبکہ وفاقی وزیر شہریار آفریدی کا ووٹ ضائع ہوگیا۔ انہوں نے دوبارہ ووٹ کے لیے درخواست کی۔

سینیٹ انتخابات:آصف زرداری کا پہلا بیلٹ پیپرضائع،دوبارہ جاری کیاگیا

پیپزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی ووٹ ڈالنے قومی اسمبلی پہنچے تاہم  ہاتھ کی کپکپاہٹ کے باعث پہلی مرتبہ ووٹ ضائع ہوا۔ آصف زرداری نے ریٹرننگ افسر کو بیلٹ پیپر دوبارہ جاری کرنے کی درخواست کر دی جس کے بعد انھیں دوبارہ بیلٹ پیپر جاری کر دیا اور انھوں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

الیکشن کمیشن نے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو خبردار کیا ہے کہ امیدواروں کے لیے ریٹائرمنٹ اور انتخابی مہم کا وقت ختم ہوچکا ہےاور اب کسی نے مہم چلائی تو کرپٹ پریکٹسز کے تحت کارروائی ہوگی۔

شہريار آفريدی کا ووٹ ضائع ہونے پر وزیراعظم برہم

انتخابی عمل میں بدعنوانی و بےقائدگی روکنے کے لیے ویجیلنس کمیٹی اور خصوصی مانیٹرنگ سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ ایف بی آر، نیب، اسٹیٹ بینک اور نادرا کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بدعنوانی سے متعلق معلومات فراہم کرے گی جبکہ بوقت ضرورت انکوائری بھی کرسکتی ہے۔

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی رائے پر من وعن عمل کےعزم کا اعادہ کرتےہوئےواضح کیا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں ووٹنگ پرانےطریقہ کار کے تحت خفیہ ہی ہوگی۔

سینیٹ کے آئندہ الیکشن میں ٹیکنالوجی کےاستعمال کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے الیکشن کمیشن نے ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو 4 ہفتے میں اپنی سفارشات جمع کرائے گی۔

سینیٹ:صوبوں، اسلام آباد کےنمائندوں کی تعداد،مدت

واضح رہے کہ قومی اسمبلی ميں تو ہر صوبے کو آبادی اور رقبے کے لحاظ سے سيٹيں ملتی ہيں ليکن ايوان بالا يا سينيٹ ميں تمام صوبائی اکائيوں کو مساوی نمائندگی دی گئی ہے يعنی سینیٹ میں ہر صوبے کے تئیس تئیس ارکان ہوتے ہيں جن ميں سے 14 عمومی ارکان، 4 خواتين، 4 ٹيکنوکريٹ اور ايک اقليتی رکن ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں سینیٹ میں اسلام آباد سے 4 ارکان ہوتے ہيں جن ميں سے 2عمومی ايک خاتون اور ايک ٹيکنوکريٹ نشست رکن کی نشست ہوتی ہے۔

سینیٹ میں پارٹی پوزیشن،حال اور مستقبل

سینیٹر کی آئینی مدت 6 برس ہے اور ہر 3 برس بعد سینیٹ کے آدھے ارکان اپنی مدت پوری کرکے ریٹائر ہوجاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے اراکین منتخب ہوکر آتے ہیں۔ فاٹا کے انضمام کے بعد اس بار 48 نشستوں پر اليکشن ہو رہے ہيں۔

سينيٹ کے 52 اراکين اپنی 6 سالہ مدت پوری کرنے کے بعد 11 مارچ کوريٹائر ہورہے ہيں۔ پی ٹی آئی کے کے 14 سینیٹرز ہیں جن میں سے 7 ریٹائر ہوجائیں گے.

پیپلز پارٹی کے8 سینیٹرز ریٹائر ہو رہے ہیں اور اسے6 سیٹوں پر کامیابی کی امید ہے جس کے بعد اس کی نشستیں21 سے کم ہوکر19 رہ جائیں گی اور وہ سینیٹ میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بن جائے گی۔

سینیٹ انتخابات کے بعد مسلم ليگ اپوزيشن کي سب سے بڑی پارٹی کے اعزازسے محروم ہوجائے گی اس کے 9 سينيٹرز ريٹائرہورہے ہيں اور پنجاب سے 5 سيٹوں پرکاميابی کے بعد اس کے اراکين کی تعداد 17 ہوجائے گی۔

متعلقہ خبریں