سینیٹ ایوان بالا مگر سیاسی جماعتیں متنازع امیدوار کیوں چنتی ہیں؟

الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے شیڈول کا اعلان ہوتے ہی بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کی فہرستیں جاری کر دی ہیں۔
یاد رہے کہ سینیٹ کو پارلیمنٹ کا ایوان بالا بھی کہا جاتا ہے گویا یہ قومی اسمبلی سے بلند درجہ ایوان ہے تاہم اس کے باجود اس کا الیکشن قومی اسمبلی سے بھی متنازع ہو چکا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سینیٹ کے انتخابات کو شفاف بنانے اور بہتر امیدوار لانے کے دعووں کے باجود پی ٹی آئی نے جن امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے ان میں نااہلی کے کیس کا سامنا کرنے والے فیصل واوڈا اور کئی ارب پتی امیدواروں اور پارٹی میں نو آموز امیدواروں کو ٹکٹ دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
اسی طرح مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے بھی جن افراد کو ٹکٹ جاری کیے ہیں ان میں بھی ماضی میں سپریم کورٹ سے نااہل ہونے والے افراد جیسے یوسف رضا گیلانی اور سعدیہ عباسی شامل ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام سمیت دیگر جماعتیں بھی سینیٹ میں ارب پتی افراد کو ٹکٹ جاری کرتی ہیں جبکہ دیرینہ کارکنوں اور میرٹ پر اہل افراد کو آگے لانے کا عمل خال خال ہی نظر آتا ہے۔
 حال ہی میں ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ 2018 کے سینیٹ الیکشن سے قبل پی ٹی آئی ارکان کروڑوں روپے رشوت لے رہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے ہارس ٹریڈنگ کی اس ویڈیو کو شرمناک قرار دیتے ہوئےٹویٹ کیا کہ ’یہ لوگ پیسہ طاقت میں آنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور پھر اس طاقت کو پیسہ کمانے، بیوروکریٹس، میڈیا اور دوسرے فیصلہ سازوں کو خریدنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور قوم کو لوٹ کر بیرون ملک اپنے اثاثے بناتے ہیں‘۔
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دعوی کیا جا رہا ہے کہ سینیٹ میں اوپن ووٹنگ لانے کے لیے آرڈیننس لانے کا مقصد بھی کرپشن کا خاتمہ اور سینیٹ انتخابات کو شفاف بنانا ہے۔

 سینٹ کا تاریخی طور پر آغاز رومن سلطنت کے دور سے ہوا جب یہ فیصلہ سازی کا سب سے بڑا ادارہ ہوتا تھا (فوٹو:سینیٹ آف پاکستان)
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سینیٹ جسے پارلیمنٹ کا ایوان بالا کہا جاتا ہے اس میں سیاسی جماعتیں متنازع امیداوار ہی کیوں بھیجتی ہیں؟

دنیا بھر میں سینیٹ کی تاریخی اہمیت

سیاسی امور کے ماہر پروفیسر رسول بخش رئیس کے مطابق سینیٹ کا لفظ لاطینی لفظ سیناٹس سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں دانا لوگوں کی کونسل۔ گویا سینیٹر کو ایک دانا، عقلمند اور سٹیٹس مین ہونا چاہیے۔
 سینیٹ کا تاریخی طور پر آغاز رومن سلطنت کے دور سے ہوا جب یہ فیصلہ سازی کا سب سے بڑا ادارہ ہوتا تھا۔ یہی فیصلہ کرتا تھا کہ اگلا بادشاہ کون ہو گا۔
امریکی آزادی کے بعد آئین بنا تو طے ہوا کہ سینیٹ میں دانا اور صاحب الرائے افراد کو رکھا جائے گا اور ان کے عہدے کی معیاد چھ سال رکھی گئی جب کہ ایوان نمائندگان یعنی عوامی نمائندوں کی عہدے کی معیاد دو سال رکھی گئی۔
اس کا مقصد یہ تھا کہ ملک کو چلانے والے افراد سینیٹ میں ہوں جو کہ زیادہ عرصے تک پالیسوں کے تسلسل کے ضامن ہوں۔ امریکہ میں تمام ریاستوں کے دو دو سینیٹر کانگریس میں جاتے ہیں تاکہ ہر ریاست وفاق میں برابر کی نمائندہ ہو اور ان کا انتخاب عوام براہ راست کرتی ہے۔ اس طرح سینیٹر عوام کو براہ راست جواب دہ بھی ہوتے ہیں اور انہی سے منتخب بھی۔

سینیٹ پاکستان میں کیوں بنائی گئی تھی؟

اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے سابق چئیرمین سینیٹ اور سابق قائمقام صدر وسیم سجاد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 1973 تک سینیٹ کا وجود نہیں تھا اور صرف قومی اسمبلی ہی ہوتی تھی۔

ماہرین کے مطابق سینیٹ کی سیٹ کی اہمیت اس لیے ہوتی ہے کہ اس کا دورانیہ چھ سال کا ہوتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
تاہم 1973 کے آئین کے تحت سینیٹ کی تشکیل کی گئی جس کے دو بڑے مقاصد تھے۔ ایک تو چاروں صوبوں کو وفاقی ایوان میں برابر کی نمائندگی دے کر ان میں ریاست پر اعتماد پیدا کرنا تاکہ وہ فیصلہ سازی میں خود کو شریک سمجھیں اور اس طرح چھوٹے اور بڑے صوبے کی کوئی تفریق نہ ہو اور نا کسی کو امتیازی سلوک کا شکوہ رہے۔
دوسرا مقصد یہ تھا کہ پارلیمنٹ کا ایک دوسرا ایوان قومی اسمبلی کے کام کا جائزہ لیتا رہے۔ اگر قومی اسمبلی کے کام میں کوئی غلطی رہ جائے کوئی پہلو نظر انداز ہو جائے تو سینیٹ اس کی تصحیح کر سکے کیونکہ کوئی بھی قانون اس وقت تک عمل میں نہیں آسکتا جب تک سینٹ اسے منظور نہ کر دے۔ گویا یہ ایک پارلیمنٹ یا فیصلہ سازی پر دوسری رائے کا ذریعہ ہو۔
وسیم سجاد کا کہنا ہے کہ سینیٹ عوام کی آواز اٹھانے کا ایک اضافی فورم بھی ہے جہاں پر ارکان ان عوامی مسائل کو اٹھا سکتے ہیں جو قومی اسمبلی میں نہیں لائے جا رہے ۔

سینیٹ الیکشن میں متنازع امیدوار کیوں آتے ہیں؟

حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ویڈیو نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ سینیٹ الیکشن میں رشوت کے ذریعے ووٹ خریدنے کی شکایات میں کچھ تو حقیقت ہے اورسیاسی جماعتوں کی جانب سے تین مارچ کو زیادہ تر امیر امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے انتخابات میں پیسہ اور اثر رسوخ اکثر میرٹ اور سیاسی وفاداری پر ترجیح پاجا تا ہے۔
ماہرین کے مطابق سینیٹ کی سیٹ کی اہمیت اس لیے ہوتی ہے کہ اس کا دورانیہ چھ سال کا ہوتا ہے اور اس کے لیے امیدوار کو کسی براہ راست الیکشن کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں ہی اس کا حلقہ انتخاب ہوتا ہے۔ جب کہ سینیٹ کے رکن کو تقریبا وہ تمام مراعات بھی حاصل ہوتی ہیں جو قومی اسمبلی ممبران کو حاصل ہوتی ہیں۔
 اس کے علاوہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اثررسوخ بھی سینیٹ کے ممبران کو حاصل ہوتا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر امیدواروں کے لیے سینیٹ کی سیٹ میں اتنی کشش ہوتی ہے کہ وہ اس کے لیے بعض اوقات مالی اخراجات کی پرواہ نہیں کرتے۔

میرٹ کے بجائے پارٹی لیڈر کی صوابدید

پروفیسر رسول بخش رئیس کے مطابق ہو یہ رہا ہے کہ سینیٹ میں امیدوار کا تعین مکمل طور پر پارٹی لیڈر کی صوابدید پر ہوتا ہے وہ ہی اپنے پارٹی کے صوبائی اور قومی اسمبلی ممبران کو کہتا ہے کہ فلاں امیدوار ہمارا نمائندہ ہے اس کو ووٹ دو۔
جب پارٹی لیڈر کے پاس اتنا اختیار ہو تو وہ کیوں صرف سیاسی اہلیت کی بنا پر لوگوں کو آگے لائے گا۔ پارٹی لیڈر کی جانب سے کچھ تو پارٹی کے سینیئر ممبران کو نامزد کیا جاتا ہے اور باقی ایسے لوگوں کو جو پیسے والے ہوں۔

پروفیسر رسول بخش رئیس کے مطابق ہو یہ رہا ہے کہ سینیٹ میں امیدوار کا تعین مکمل طور پر پارٹی لیڈر کی صوابدید پر ہوتا ہے۔(فوٹو: ریڈیو پاکستان)
پروفیسر رسول بخش نے الزام عائد کیا کہ سینیٹ الیکشن میں دو طرح کرپشن ہوتی ہے ایک تو پارٹی لیڈر خود سینیٹ کے امیر امیدواروں سے پیسے لیتے ہیں اور دوسرا جب ووٹ دینے والے ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی کو پتا ہوتا ہے کہ لیڈر پیسے لے گا تو وہ بھی طے کرتے ہیں کہ کیوں ناں وہ خود اپنا ووٹ فروخت کریں۔
یہی وجہ ہے کہ سینیٹ میں پارٹی کے دیرینہ کارکنوں یا انتہائی قابل افراد کو چننے کے بجائے ایسے افراد کو چنا جاتا ہے جو صاحب حثییت ہوں چاہے وہ بیٹری کا کاروبار کرتے ہو یا ادویات کا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی لیڈر ذاتی خدمت گاروں تک کو سینیٹ میں لے آتے ہیں۔

سینیٹ میں مثالی امیدوار کیسے ہوں؟

طویل عرصہ تک سینیٹ کا حصہ رہنے والے وسیم سجاد کا ماننا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سینیٹ میں اچھے، پڑھے لکھے اور معزز ارکان کو لے کر آئیں کیونکہ اس میں آنے والے ارکان کو پارٹیاں ہی نامزد کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ وہ فورم ہے جہاں پر پارٹیز کے پاس موقع ہوتا ہے کہ وہ سیاستدانوں کے علاوہ پڑھے لکھے طبقے کے نمائندگان کو لائیں جیسے وکلا، انجینیئر، ماہرین وغیرہ۔
 جب ان سے پوچھا گیا کہ حقیقت میں کیا پارٹیز ایسے لوگوں کو ہی سینیٹ میں لاتی ہیں تو انہوں نے اس کا براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا  بعض اوقات پارٹیز اچھے لوگوں کو بھی سامنے لاتی ہیں اور کئی دفعہ مجبورا ایسے لوگوں کو لاتی ہیں جو مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔
اس سوال پر کہ پارٹیز کی کیا مجبوریاں ہوتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ بعض اوقات پارٹی کے ایسے کارکن جنہوں نے بہت خدمات سرانجام دی ہوتی ہیں یا پارٹی پر سرمایہ کاری کی ہوتی ہے وہ عام الیکشن میں ہار جائیں تو انہیں سینیٹ میں جگہ دی جاتی ہے۔
رسول بخش رئیس کے مطابق امریکہ کی طرح پاکستان میں گو کہ تمام صوبوں کی سینیٹ میں نمائندگی یکساں ہے تاہم یہاں براہ راست انتخاب نہیں ہوتا اور پارٹی رہنماوں کی صوابدید ہی سب سے اہم چیز ہوتی ہے اس لیے کوالٹی کی قیادت سینیٹ میں نہیں پہنچ پاتی اور سینیٹ کو وہ مقام نہیں مل سکتا جو ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔
ان کے مطابق اس ساری صورتحال کا حل یہ ہے کہ سینیٹ کے انتخاب کو براہ راست کر دیا جائے۔