سینیٹ میں بڑا اپ سیٹ: یوسف رضا گیلانی جیت گئے

سینیٹ انتخابات میں سب سے دلچسپ اور بڑے معرکے میں حزب اختلاف کے امیدار یوسف رضا گیلانی  نے اسلام آباد کی جنرل نشست پر حکومت کے امیدوار اور وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو پانچ ووٹوں سے شکست دے دی ہے۔
پریذائیڈنگ افسر نے نتیجے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یوسف رضا گیلانی نے 169 ووٹ حاصل کیے جبکہ حفیظ شیخ کو 164 ووٹ ملے۔ 
سرکاری نتیجہ آنے سے قبل ہی وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گِل نے ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ ’اسلام آباد کے الیکشن میں سات ووٹ مسترد ہوئے۔ پانچ ووٹوں کا فرق ہے، ہم اس نتیجے کو چیلنج کریں گے۔
مزید پڑھیں
بدھ کو سینیٹ الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے پی ڈی ایم کو سیاہ قوتوں کا ٹولہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ضمیروں کے سوداگر ہیں۔‘
شبلی فراز نے اپوزیشن کے بعض ارکان کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک لانے کے حوالے سے کہا کہ ’ان کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے، کس منہ، کس کردار سے وہ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔‘
انہوں نے منگل کے روز یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کی سامنے آنے والی ویڈیو کے حوالے سے کہا کہ ’الیکشن کا نتیجہ ویڈیو کے حوالے سے ہمارے موقف کی تائید ہے۔‘
ان انتخابات میں سب سے دلچسپ اور بڑا مقابلہ اسلام آباد کی جنرل نشست پر وفاقی مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور پیپلز پارٹی کے رہنما سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے درمیان تھا۔
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا جب سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی نشست اہمیت اختیار کر گئی تھی۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کی پارٹی قیادت خصوصاً وزیراعظم سینیٹ امیدوار کی خود انتخابی مہم چلا رہے تھے۔
اسلام آباد سے خواتین کی نشست پر تحریک انصاف کی امیدوار فوزیہ ارشد 174 ووٹ لے کر سینیٹر منتخب ہوگئیں۔ ان کی مدمقابل امیدوار فرزانہ کوثر نے 161 ووٹ حاصل کیے۔

فیصل واوڈا سندھ سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں (فوٹو: فیصل واوڈا ٹوئٹر)

سندھ میں پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا

کراچی سے اردو نیوز کے نامہ نگار توصیف رضی ملک کے مطابق سندھ میں پیپلز پارٹی نے سینیٹ کی سات نشستیں جیت کر میدان مار لیا۔ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے دو دو نشستیں حاصل کیں۔
سندھ اسمبلی میں ڈالے گئے 167 ووٹوں میں سے 6 ووٹ مسترد ہوئے۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کی شیری رحمان اور متحدہ قومی موومنٹ کے فیصل سبزواری جنرل نشستوں پر 22، 22 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوگئے۔
تحریک انصاف کے فیصل واوڈا، پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا اور تاج حیدر 20، 20 ووٹ لے کر سینیٹر منتخب ہوگئے، جبکہ پیپلز پارٹی کے ہی جام مہتاب ڈہر نے 19 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔
پیپلز پارٹی نے سندھ سے پانچ جنرل، جبکہ ٹیکوکریٹ اور خواتین کی ایک ایک نشست حاصل کی۔ پی ٹی آئی نے ایک جنرل اور ایک ٹیکنوکریٹ کی نشست اپنے نام کی۔ ایم کیو ایم نے ایک خواتین اور ایک جنرل نشست جیتی۔
بلوچستان سے ہی بلوچستان عوامی پارٹی کے منظور کاکڑ، سرفراز بگٹی اور پرنس عمر احمد زئی بھی جیت گئے ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے محمد قاسم بھی کامیاب ہو گئے ہیں۔
اگرچہ ہمیشہ کی طرح 2021 کے سینیٹ الیکشن کے لیے بھی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری رہا تاہم اس بار صوبوں کے بجائے مرکز کی نشست بہت اہمیت اختیار کر گئی تھی، جبکہ پنجاب سے تمام امیدوار ہی بلامقابلہ منتخب ہو گئے تھے۔
کراچی سے پیپلز پارٹی کی امیدوار پلوشہ خان اور ایم کیو ایم کی خالدہ اطیب بھی سینیٹر منتخب ہوگئی ہیں۔
کوئٹہ سے اردو نیوز کے نامہ نگار زین الدین احمد کے مطابق بلوچستان میں سینیٹ کی بارہ نشستوں پر انتخاب ہوا جن میں سے آٹھ نشستوں پر حکومتی اتحاد نے کامیابی حاصل کی جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے چار امیدوار کامیاب ہوئے۔
جنرل کی سات میں سے پانچ نشستیں پر حکومتی امیدوار جبکہ دو پر اپوزیشن ارکان کو فتح حاصل ہوئی۔ ٹیکنوکریٹ کی دو نشستوں میں سے ایک حکومتی اور ایک اپوزیشن رکن نے جیت لی۔
 خواتین کی دو نشستوں پر بھی ایک حکومتی اور ایک اپوزیشن رکن نے کامیابی سمیٹی جبکہ ایک اقلیتی نشست پر حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے دھنیش کمار کامیاب قرار پائے۔

خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کا معرکہ پی ٹی آئی کے نام رہا

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے واضح کامیابی حاصل کرتے ہوئے 10 سینیٹرز منتخب کرا لیے۔
جنرل پر شبلی فراز، محسن عزیز، لیاقت ترکئی، فیصل سلیم اور ذیشان خانزادہ کامیاب ہوگئے جبکہ خواتین کی نشست پر فلک ناز چترالی اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے میدان مار لیا۔
ٹیکنوکریٹ کی سیٹ پر دوست محمد اور ہمایوں مہمند نے فتح سمیٹی۔
جنرل نشست پر جمعیت علمائے اسلام کے مولاناعطا الرحمان اور اے این پی کے ہدایت اللہ کامیاب رہے۔ 
ایوان بالا کے انتخابات ہر بار ہی سیاسی گہماگہمی کا باعث ہوتے ہیں تاہم اس بار اس کی نوعیت کچھ مختلف اس لحاظ سے تھی کہ اس مرتبہ اوپن اور خفیہ بیلٹنگ کی بحث بہت زوروں پر تھی اور معاملہ عدالت بھی پہنچا مگر بہرحال الیکشن پرانے طریقہ کار کے مطابق ہی ہوئے۔
 دوسری بار ایک اہم بات یہ بھی رہی کہ ایک کے بعد ایک ویڈیوز سامنے آتی رہیں جن میں سے ایک 2018 کے الیکشن سے چند روز قبل کی تھی جس میں ارکان خبیر پختونخوا اسمبلی رقم وصول کرتے نظر آرہے تھے۔
 اس کے بعد پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو منظر عام پر آئی، جس پر پی ٹی آئی نے یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن جانے کا اعلان کیا اور انہیں نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
اسی طرح پی ٹی آئی نے سندھ میں اپنے تین ارکان کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ بھی کیا، اور اس پر سندھ اسمبلی میں ہنگامہ آرائی بھی ہوئی۔اس اعصاب شکن معرکے میں نے کو ہرا دیا۔ اس بڑے مقابلے میں 7 ارکان اسمبلی کے ووٹ مسترد ہوئے۔
دوسری جانب بلوچستان سے سینیٹ کی جنرل نشستوں پر آزاد امیدوار عبدالقادر اور جمعیت علمائے اسلام ف کے عبدالغفور حیدری جیت گئے ہیں۔ یاد رہے کہ عبدالقادر کو پہلے تحریک انصاف کا ٹکٹ جاری کیا گیا تھا تاہم بعد میں کارکنوں کے احتجاج پر ان سے ٹکٹ لے لیا گیا تھا۔