سینیٹ میں پارٹی پوزیشن،حال اور مستقبل

پی ٹی آئی اکثریت کے حصول کی جانب گامزن

ايوان بالا میں فی الحال تو اپوزیشن کو عددی اکثریت حاصل ہے ليکن 3مارچ کو ہونے والے انتخابات کے بعد صورتحال بدل جانے کا امکان ہے اور تحريک انصاف سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھرتی نظر آ رہی ہے۔

سينيٹ کے 52 اراکين اپنی 6 سالہ مدت پوری کرنے کے بعد 11 مارچ کوريٹائر ہورہے ہيں۔ پی ٹی آئی کے کے 14 سینیٹرز ہیں جن میں سے 7 ریٹائر ہوجائیں گےت۔

حکمران جماعت کو پنجاب سے 5 سيٹيں مل چکی ہیں جبکہ اس کے مزيد 15 اميدواران کی کامیابی کا امکان ہے جس کے بعد متوقع طور پر اس کی سيٹوں کی کل تعداد 28 ہوجائے گی۔

پی ٹی آئی کی اتحادی بلوچستان عوامي پارٹی کی نشستوں کی تعداد 13 تک پہنچ سکتی ہے جبکہ پنجاب کی ايک سيٹ مسلم ليگ ق کے حصے ميں آئی ہے۔

پیپلزپارٹی کے8 سینیٹرز ریٹائر ہو رہے ہیں اور اسے6 سیٹوں پر کامیابی کی امید ہے جس کے بعد اس کی نشستیں21 سے کم ہوکر19 رہ جائیں گی اور وہ سینیٹ میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بن جائے گی۔

سینیٹ انتخابات کے بعد مسلم ليگ اپوزيشن کي سب سے بڑی پارٹی کے اعزازسے محروم ہوجائے گی اس کے 9 سينيٹرزريٹائرہورہے ہيں اور پنجاب سے 5 سيٹوں پرکاميابی کے بعد اس کے اراکين کي تعداد 17 ہوجائے گی جس کا مطلب ہے کہ پی ٹی آئی کے دومضبوط سياسی حريف حکمران اتحاد کی اکثريت کی صورت میں بھی ايوان بالاميں ان کے لیے مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں۔

تحریک انصاف کو سادہ قانون سازی کے لیے بھی اپنے حلیفوں اور حزب اختلاف کو رضامند کرنے کی کوششیں کرنی پڑیں گی۔

متعلقہ خبریں