سی ایس ایس میں ’پہلی پوزیشن‘: ’تھانوں میں خواتین کے مسائل حل کروں گی‘

ہمارے ہاں خواتین کا تھانوں میں جانا اچھی بات نہیں سمجھی جاتی اور وہاں خواتین کو کئی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، خواتین کو پیش آنے والے انہی مسائل کو حل کرنے کے لیے پولیس سروس آف پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔
یہ کہنا ہے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والی زینب خالد کا جنہوں نے سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کے امتحان میں صوبے میں ساتویں جبکہ خواتین میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ 
زینب خالد کا تعلق ضلع مانسہرہ کے نواحی علاقے گڑھی حبیب اللہ سے ہے اور انہیں اپنے ضلعے میں پہلی خاتون پی ایس پی افسر بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ 
مزید پڑھیں
ایک متوسط گھرانے اور روایتی پشتون خاندان سے تعلق رکھنے والی زینب خالد کے والد بینکنگ کے شعبے سے منسلک ہیں اور والدہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔ 
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے زینب نے بتایا کہ ’وہ اپنے خاندان اور علاقے میں پہلی سی ایس پی افسر بننے جارہی ہیں اور پورا علاقہ ایک خاتون کی کامیابی پر خوش ہے۔‘
’سی ایس ایس کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ میں روایتی سوچ کو ختم کروں کہ خواتین مخصوص شعبوں تک ہی محدود ہو کر کام کر سکتی ہیں، اب میری کامیابی پر پورا علاقہ خوش ہے یہی میری کامیابی ہے۔‘ 
زینیب خالد نے بتایا کہ ’انہوں نے پرائمری تعلیم گڑھی حبیب اللہ کے مقامی جبکہ میٹرک کی تعلیم ایک نجی سکول سے حاصل کی اور ایبٹ آباد بورڈ میں بھی پوزیشن حاصل کی۔‘ 
انہوں نے بتایا کہ ’میرے والدین نے میری دلچسپی اور کامیابی کو دیکھتے ہوئے مجھے تعلیم جاری رکھنے کی مکمل آزادی دی جس کے لیے مجھے روایتی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔‘
’میرے والدین ہمیشہ مجھے سپورٹ کرتے رہے اور روایتی پشتون خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود مجھے یونیورسٹی اور ہاسٹل میں داخلہ لینے کی بھی اجازت دی۔‘ 
وہ کہتی ہیں کہ ’جب بھی میرے والدین کو بچیوں کو تعلیم دینے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تو امتحانات میں میرے نتائج ہمیشہ ایسے ناقدین کو خاموش کرنے کا سہارا بنتے۔‘

زینب خالد کہتی ہیں کہ ’بطور پولیس افسر میرا مقصد خواتین کو تھانے میں پیش آنے والے مسائل کو حل کرنا ہے‘ (فائل فوٹو: عرب نیوز)
پولیس سروسز کا انتخاب کیوں؟ 
زینب خالد بتاتی ہیں کہ ’میں نے اپنے ملک کی اور لوگوں کی خدمت کے لیے سی ایس ایس کا انتخاب کیا، پہلے میں ڈاکٹر بن کر لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی تھی لیکن اللہ کو ایسا منظور نہیں تھا اور میں انٹری ٹیسٹ پاس نہ کر سکی۔‘ 
 ’سی ایس ایس کرنے کا مقصد براہ راست عوام کی خدمت کرنا اور ملک کے لیے خدمات سرانجام دینا تھا، اسی لیے میں نے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروسز کو ہی ترجیح دی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے اپنے ملک اور اپنے لوگوں کی خدمت کرنی ہے اور بطور خاتون پولیس افسر میرا مقصد خواتین کو تھانے میں پیش آنے والے مسائل کو حل کرنا ہے۔‘
’ہمارے ملک اور خاص طور پر خیبرپختونخوا میں خواتین کے حوالے سے ایک مخصوص سوچ پائی جاتی ہے، یہاں خواتین کا تھانے میں جانا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔‘
’ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کسی کو تو آگے آنے کی ضرورت تھی اور اسی لیے میں نے پولیس سروسز کا انتخاب کیا۔‘

زینب خالد کا کہنا ہے کہ ’تھانوں میں خواتین کے مسائل حل کرنے کے لیے پولیس سروس کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا‘ (فوٹو: خیبر پختونخوا پولیس)
انہوں نے بتایا کہ ’میڈیکل سائنسز کی طالبہ ہونے کی وجہ سے میرے لیے سی ایس ایس کی تیاری کرنا مشکل تھا۔‘
زینب خالد بتاتی ہیں کہ ’میڈیکل سائنسز کی طالبہ ہونے کے وجہ سے انہیں سوشل سائنسز کے بارے زیادہ علم نہیں تھا۔‘
’میں تو ڈاکٹر بن کر لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی تھی لیکن انٹری ٹیسٹ میں کامیابی نہ ملی تو پھر خیال آیا کہ سول سروس جوائن کر کے بھی ملک کی بہتر خدمت کی جاسکتی ہے لیکن مجھے سوشل سائنسز کے بارے زیادہ معلومات نہیں تھیں جس کی وجہ سے میں نے سی ایس ایس اکیڈمی جوائن کی۔‘ 
انہوں نے بتایا کہ ’میں نے روزانہ 8 گھنٹے پڑھائی کے لیے ٹائم ٹیبل مقرر کیا لیکن اس پر مکمل طور پر عمل کرنا ممکن نہ ہوتا۔‘
’میری کوشش ہوتی کہ ٹائم ٹیبل پر 80 فیصد تک عمل درآمد کیا جائے اور جب امتحان قریب آیا تو 12 گھنٹے پڑھائی کرتی تھی اور ایک سال میں اپنی تیاری مکمل کی۔‘
زینب خالد کہتی ہیں کہ ’میں ان تمام خواتین کے لیے رول ماڈل بننا چاہتی ہوں جو صلاحیت رکھنے کے باوجود معاشرے میں حائل رکاوٹوں کی وجہ سے آگے نہیں آسکتیں۔‘