شام کے پناہ گزینوں کے لیے امریکہ کی 239 ملین ڈالر امداد

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ شام میں موجود بے گھر افراد اور ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کے لیے 239 ملین ڈالر کی امداد دے گا۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کے نائب جیفری پریسکاٹ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ امریکی نمائندہ لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے حالیہ دورہ ترکی کے دوران حکام اور امدادی کارکنوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔
مزید پڑھیں
ان کے مطابق لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے ترک حکام کے ساتھ شامی پناہ گزینوں کے لیے امریکی امدادی پروگرام اور بائیڈن انتظامیہ کے منظور کردہ نئے امدادی پیکج پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے مطابق اس وقت ترکی میں 36 لاکھ رجسٹرڈ شامی پناہ گزین ہیں۔ اس طرح ترکی دنیا میں پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ تقریبا دس لاکھ مزید شامی تارکین پڑوسی ممالک اردن، لبنان اور یورپی ملکوں میں پناہ گزین ہیں۔
جیفری پریسکاٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا نے شامی پناہ گزینوں کے لیے صورتحال کو مزید خراب اور زندگی بچانے والی امداد کی فراہمی کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔
ان کے مطابق امریکہ نیٹو کانفرنس سے قبل واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان سٹریٹیجک شراکت بڑھانے پر کام کرنے کا خواہاں ہے۔ نیٹو کانفرنس میں ترک صدر رجب طیب اردوغان اور امریکی صدر جوبائیڈن کی ملاقات طے ہے جہاں دوطرفہ تعلقات اور شام میں امریکی مقاصد زیربحث آئیں گے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر ترکی کے تین روزہ دورے پر تھیں (فوٹو: عرب نیوز)
اوکلوہاما یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ سینٹر کے ڈائریکٹر نے عرب نیوز کو بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں شام کے لیے انسانی حقوق سے متعلق پالیسی پر زیادہ عمل پیرا ہے، لیکن اس کی بنیاد اب بھی اسرائیل کو مضبوط کرنا اور خطے میں ایران اور روس کا نفوذ کم کرنا ہی ہے۔
ماسکو اور تہران دونوں بشارالاسد حکومت کے مضبوط اتحادی ہیں جو شام میں اپنی افواج کی بڑی تعداد رکھتے ہیں۔