شاہ محمود قریشی نے سی این این انٹرویو میں کیا کہا تھا کہ تنازع بن گیا؟

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے تقریر کے بعد امریکی ٹی وی چینل سی این این کو انٹرویو میں میڈیا پر اسرائیل کے کنٹرول کی بات کی تو سی این این کی اینکر بیانا گولوڈریگا نے اسے یہودیوں کے خلاف نفرت پر مبنی رائے قرار دیا جس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میڈیا اس تاثر کو دور کرنے کے لیے کشمیر سمیت دیگر معاملات کو متوازن کوریج دے۔
جمعے کو وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا پر اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وزیر خارجہ کے سی این این کو دیئے گئے انٹرویو میں کہی ہوئی بات کو کسی بھی لحاظ سے یہودیوں کے خلاف نفرت پر مبنی قرار نہیں دیا جاسکتا۔‘
ترجمان کے مطابق ’ان کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ آزادی اظہار کا سب کو یکساں طور پر احترام کرنا چاہیے۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے تعلقات کے باجود میڈیا کی جنگ ہار رہا ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے اعلان سے کئی گھنٹے قبل دیے گئے انٹرویو کے آغاز میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہوا بدل رہی ہے مجھے یقین ہے کہ رائے عامہ کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور سیز فائر اب ناگزیر ہو گیا ہے۔‘
اینکر بیانا گولوڈریگا نے ان سے پوچھا کہ اسرائیل کے میڈیا سے تعلقات سے کیا مراد ہے تو شاہ محمود قریشی نے معنی خیز ہنسی کے ساتھ کہا  کہ ’گہری جیبیں‘ جب اینکر نے پوچھا اس کا کیا مطلب ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی مراد ہے ’وہ بہت اثررسوخ والے لوگ ہیں وہی میڈیا کو کنٹرول کرتے ہیں۔‘
جس پر اینکر کا کہنا تھا کہ وہ ان ریمارکس کو اینٹی سیمیٹک کہیں گی۔
یاد رہے کہ اینٹی سیمیٹک کی اصطلاح مغربی ممالک میں اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی بات یا رائے  یہودیوں کے خلاف بغض یا نفرت پر مبنی نظر آئے۔
شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ ان کی مراد یہ ہے کہ ان (اسرائیل) کا میڈیا پر بہت اثر رسوخ ہے اور ان کو بہت کوریج ملتی ہے تاہم اب سیٹیزن صحافیوں نے اس کو متوازن کیا ہے اور غزہ میں تباہی کی وڈیوز، تصاویر اور مناظر دیکھ کر دنیا کی آنکھیں کھل رہی ہیں۔ لندن، میڈرڈ، شگاگو سمیت  دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں لوگ باہر آ گئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ پاگل پن ختم ہونا چاہیے۔ وہ سیز فائر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کشیدگی کے دوران غزہ میں انسانی جانوں کے علاوہ عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
سی این این کی میزبان نے بار بار وزیرخارجہ کو کہا کہ اسرائیل مخالف مظاہروں سے اینٹی سیمیٹک تاثرات کو بھی فروغ مل رہا ہے کیا وہ اس کی مذمت کریں گے وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ’آپ دیکھیں دنیا میں (میڈیا کی اسرائیل کے بارے کوریج کے حوالے سے ) تاثر کیا بن رہا ہے؟ آپ اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘
اینکر نے کہا کہ تاثر غلط ہے تو شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ  تاثر ہے کہ عالمی میڈیا اسرائیل کے کنٹرول میں ہے، اس کا اثر و رسوخ ہے۔ یہ تاثر متوازن کوریج سے ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے میزبان سے سوال کیا کہ کشمیر کو عالمی سطح پر کتنی کوریج ملتی ہے ؟ جس پر میزبان نے فورا گفتگو کا رخ کورونا وبا کی طرف موڑ دیا اور شاہ محمود قریشی سے پوچھا کہ پاکستان کو کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے کس طرح کی امداد چاہیے۔

 سی این این کی اینکر بیانا گولوڈریگا نے پاکستانی وزیر خارجہ کا انٹرویو کیا۔ (فوٹو: بیانا گولوڈریگا فیس بک)
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چین نے ویکیسن فراہم کی ہے اور وہ خرید بھی رہا ہے مگر بین الاقوامی کوویکس سہولت سے ویکیسن پہنچنے میں تاخیر کا سامنا ہے۔
وزیرخارجہ کے انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی کہ کیا ان کے ریمارکس اینٹی سیمیٹک تھے یا نہیں۔ دنیا بھر کے صحافی اور عام صارفین اس حوالے سے رائے دے رہے ہیں۔
سی این این کی اینکر نے انٹرویو کے اختتام پر شاہ محمود قریشی کو کہا کہ وہ ذاتی طور پر انہیں تجویز کریں گی کہ وہ اینٹی سیمیٹک ریمارکس نہ دیا کریں  تو شاہ محمود نے کہا کہ انہوں نے نہ کبھی ایسا کیا ہے نہ کبھی کریں گے۔