شاہ محمود قریشی کی کس بات پر بلاول نے فون ٹیپ کرنے کی درخواست کی؟

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان شدید تکرار ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بدھ کو قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ اگر قومی اسمبلی میں عمران خان نہیں بولیں گے تو پھر بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کو بھی نہیں بولنے دیا جائے گا۔
انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کی بجٹ پر تنقید کے حوالے سے کہا کہ ’قوم کے 172 ارکان نے ووٹ دے کر اس پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔‘
مزید پڑھیں
’یہ ایوان منتخب نمائندوں کا ایوان ہے اور اس کی اکثریت نے بجٹ جو سپورٹ کیا۔‘
انہوں نے گذشتہ روز بجٹ پاس کرنے کے دوران اپوزیشن رہنما شہباز شریف کی غیر حاجری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کون سی پارلیمانی روایت تھی کہ لیڈر آف دی اپوزیشن سب سے اہم فنانس بل میں حاضر ہی نہ ہوں۔‘
وزیر خارجہ کی تقریر کے دوران پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ارکان کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی جس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہم نے سب کو قومی اسمبلی میں صبر سے سنا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کو سنا ہے۔‘

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کو تقریر کرنے دی جاتی تو یہ نوبت نہ آتی۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ہمیں غل غپاڑے اور شور و شرابے سے ہمیں دبا دیں گے تو یہ نہیں ہوگا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ایوان کا ماحول بگاڑنے کی ابتدا اپوزیشن کی کی۔ اگر عمران خان کو وہ تقریر کرنے دیتے اور اس میں رکاوٹ نہ ڈالتے تو یہ نوبت نہ آتی۔‘
وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ’میں آج کہہ رہا ہوں سن لیں کان کھول کر سن لیں۔ اگر عمران خان نہیں بولے گا تو بلاول بھی نہیں بولے گا، شہباز بھی نہیں بولے گا۔‘

’وزیراعظم جب شاہ محمود کو پہچانیں گے تو لگ پتہ جائے گا‘

بلاول بھٹو زرداری نے شاہ محمود قریشی کی تقریر کے جواب میں انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور وزیراعظم سے درخواست کی کہ ’وہ آئی ایس آئی کو شاہ محمود کے فون ٹیپ کرنے کا کہیں کیونکہ جب وہ ہمارے دور میں وزیر خارجہ تھے تو دنیا میں مہم چلاتے تھے  کہ یوسف رضا گیلانی کی جگہ مجھے وزیراعظم بنا دیں، اسی وجہ سے انہیں فارغ کیا گیا تھا۔‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ فاضل ممبر ملتان نے میرا نام لیا اس لیے وضاحت میرا حق بنتا ہے۔
بقول ان کے ’جتنا ہم جانتے ہیں فاضل ممبر ملتان کو اتنا تو آپ نہیں جانتے ہو۔‘
ان کے مطابق ’خان صاحب جب پہچانیں گے کہ یہ کیا چیز ہے تو انہیں لگ پتہ جائے گا۔‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ فاضل ممبر ملتان نے میرا نام لیا اس لیے وضاحت میرا حق بنتا ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے شاہ محمود قریشی کو فاضل ممبر ملتان کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے اس پر پارٹی پر تنقید کی جس نے انہیں وزیر خزانہ، صدر پنجاب اور وزیر خارجہ بنایا تھا‘
انہوں نے سپیکر سے کہا کہ وہ خان صاحب کو بتائیں کہ اس شخصیت کو پہنچانیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’میں بچپن سے دیکھتا آ رہا ہوں، میں نے ان کو جیے بھٹو کا نعرہ لگاتے ہوئے دیکھا ہے۔‘
ان کے مطابق ’اپنی وزارت بچانے کے لیے انہیں ایک بار پھر زرداری کا نعرہ لگاتے دیکھا ہے۔‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اب دیکھنا کہ آپ کے وزیراعظم کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔
انہوں نے شاہ محمود قریشی پر ’کشمیر کے سودے میں ملوث‘ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’جب امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے، یہ یہاں تقریر کرنے کے بجائے ایسا بندوبست کریں کہ امریکی صدر وزیراعظم کو فون ہی کر لیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ حکومت اور وزیراعظم کے لیے خطرہ بننے والے ہیں۔