شرجیل میمن کرپشن ریفرنس:احتساب عدالت کافیصلہ نیب نےہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

پيپلزپارٹی رہنما شرجیل میمن کے خلاف پونے 6 ارب روپے کرپشن کے ریفرنس میں نیب نے احتساب عدالت کے فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

منگل کو سندھ ہائی کورٹ میں شرجیل میمن کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ملزم انعام اکبر اور دیگر کو نوٹس جاری کردیے۔نيب پراسيکيوٹر کے مطابق ملزم انعام اکبر ریفرنس میں 2 ارب روپے کا بينیفشری ہے۔احتساب عدالت نے حقائق کو نظرانداز کرکے منجمد اکاؤنٹس کھولنے کا حکم دیا۔

جسٹس عدنان چوہدری نے استفسار کيا کہ اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم کون دیتا ہے؟ جس پر نيب پراسيکيوٹر نے عدالت کو بتايا کہ کرپشن کی نشاندہی پر ابتدائی طور پر چئیرمین نیب اکاونٹس منجمد کرتے ہیں اور انکوائری شروع ہوتے ہی قانون کے مطابق مشکوک اکاؤنٹس منجمد کردیے جاتے ہیں۔ نيب پراسيکيوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم انعام اکبر کے اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم نامہ معطل کیا جائے۔

دو ماہ قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں بتایا تھا کہ سندھ کے سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن 2 سال گرفتار رہے۔ شرجیل میمن اب بھی نیب سے تفتیش میں تعاون کررہےہیں اور اس موقع پر شرجیل میمن کو قید کرکے آزادی چھین لینا نا انصافی ہوگی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر شرجیل میمن تفتیش میں تعاون نہ کریں تو نیب ضمانت منسوخی کیلئے رجوع کرسکتاہے۔ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نیب نے کہا کہ شرجیل میمن اثاثوں سے متعلق معلومات فراہم نہیں کررہے ہیں تاہم عدالتی استفسار پر پتہ چلا کہ نیب نے ایف بی آر سے ریکارڈ تک نہیں لیا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا  کہ نیب کے مطابق ایک کمپنی کے ملازم نے ملزم سے چیکس لے کر جعلی اکاؤنٹس میں جمع کرائے لیکن نیب نے چیکس وصول کرنے والے اس ملازم کو گرفتار ہی نہیں کیا۔8صفحات پر مشتمل تفیصلی فیصلہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جاری کیا۔

متعلقہ خبریں