شملہ معاہدہ، 50 برس قبل ناکام ہوتے مذاکرات کامیاب کیسے ہوئے؟

’اگر دونوں رہنماؤں (بھٹو اور اندرا گاندھی) کو ایک کمرے میں بند کرکے تالا لگا دیا جائے، چابیاں پھینک دی جائیں، انہیں اس وقت تک باہر نہ نکالا جائے جب چمنیوں سے دھواں نکلتا دکھائی نہ دے۔ جیسا کہ یہ  نئے پوپ کے انتخاب کے لیے ایک روایت اور طریقہ کار بن چکا ہے۔‘
یہ تجویز اور الفاظ ایک بھارتی سیاسی کارکن اور مصنف کے تھے جن کا اظہار انہوں نے آج سے ٹھیک پچاس برس قبل پاک بھارت مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے کیا تھا۔
بھارت کے صحت افزا مقام شملہ میں 28 جون 1972 سے جاری مذاکرات پر جب بے نتیجہ ہونے کے خطرات منڈلا رہے تھے۔
ایسے میں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی سے اچھے تعلقات رکھنے والے اور پاکستان کے اس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو کے ذاتی دوست اور کلاس فیلو پیلو مودی نے یہ تجویز پیش کر دی تھی، مگر اسی روز دوپہر کو تعطل اور سرد مہری کا شکار مذاکرات میں امید اور نتیجہ خیزی  کی ہلکی سی کرن پیدا ہوئی۔  
بظاہر غیرعلانیہ ناکام مذاکرات کے آخری روز پاکستانی اور بھارتی سربراہان مملکت نے پیلو مودی کے مشورے پر کمرے میں بند ہو کر بات چیت کرنے کے برعکس چہل قدمی اور گفتگو کرنے کے لیے عمارت سے  باہر جانے کا فیصلہ کیا۔
مزید پڑھیں
  • جب بھٹو کرکٹ کے دیوانے تھے

    Node ID: 483296

  • ذوالفقار علی بھٹو پر قتل کا مقدمہ یا ’مقدمے کا قتل‘

    Node ID: 554291

  • آپریشن ’بلیو سٹار‘ جو اندرا گاندھی کی موت کی وجہ بنا

    Node ID: 614031

پاکستان کی سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو اس وقت 18 سال کی تھیں۔ ان کے والد سیاسی تربیت اور مذاکرات کے پیچ و خم سے آشنا کرنے کے لیے انہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
بے نظیر بھٹو نے اپنی آپ بیتی ’ڈاٹر آف دی ایسٹ‘ میں اس روز دونوں رہنماؤں کی سرکاری رہائش گاہ ہماچل بھون سے باہر نکل کر بات چیت کا احوال بیان کیا ہے۔
وہ لکھتی ہیں ’بھٹو ان سے ملنے آئے اور کہنے لگے میں ایک آخری حربے کے طور پر اندرا سے ملنے جا رہا ہوں۔ اگر کامیابی نہ ملے تو تم مایوس نہ ہونا۔‘
دونوں رہنما چیڑھ کے درختوں میں گھری پہاڑی پر بل کھاتی سڑک پر چہل قدمی اور بات چیت کرنے نکل گئے ۔واپسی پر بھٹو نے اپنی بیٹی کو بتایا کہ انہیں لگتا ہے کہ معاہدہ ہو جائے گا ۔
بے نظیر بھٹو کے استفسار پر کہ انہوں نے یہ کیسے کر لیا ؟ ان کے والد نے انہیں بتایا کہ میں نے اندرا گاندھی کو کہا کہ مذاکرات کی ناکامی صرف میرے لیے نہیں ہوگی۔ اس میں  ہم دونوں کا خسارہ ہے۔ ناکامی کی صورت میں دونوں کے سیاسی مخالفین کو ان کے خلاف بات کرنے کا موقع مل جائے گا۔
اندراگاندھی بھٹو کی تجویز سے بظاہر راضی تو نہ ہو سکیں  مگر اس  سے غیر متفق بھی نہ تھیں۔ بھارتی وزیر اعظم کا جواب تھا کہ وہ اپنے وفد سے مشورے کے بعد رات کے کھانے پر اس کا جواب دیں گی۔

بینظیر بھٹو نے اپنی کتاب ’ڈاٹر آف دی ایسٹ‘ میں شملہ معاہدے کے حوالے سے واقعات کا ذکر کیا ہے (فوٹو: گڈ ریڈز)

مذاکرات میں کیا تعطل تھا؟        

1971کی جنگ کے بعد دونوں ہمسایہ ملکوں میں جاری تاریخی مذاکرات میں بھارتی شرائط نے تعطل پیدا کر دیا تھا۔ پاکستان جنگی قیدیوں اور 5 ہزار مربع میل علاقہ بھارت کے قبضے کی ہونے کی وجہ سے دباؤ میں تھا۔
اپریل 1972 میں ایک کشمیری قومیت کے حامل سینیئر بھارتی ڈپلومیٹ ڈی پی دہر کو اندرا گاندھی نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے طریقہ کار ، شرائط اور ضوابط طے کرنے پاکستان بھیجا تھا۔
اس دور کے پاکستانی سیکریٹری خارجہ عزیز احمد خان کے ساتھ ان کے مری اور راولپنڈی میں مذاکرات ہوئے۔ صدر بھٹو نے اپنے معاون خصوصی رفیع رضا کو اپنے نمائندے کے طور پر ان مذاکرات میں شمولیت کا کہا تھا۔
رفیع رضا اپنی کتاب ’ذوالفقارعلی بھٹو اینڈ پاکستان‘ میں بیان کرتے ہیں کہ بھارتی سفارت کار مسلسل اصرار کر رہے تھے کہ کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان لائن آف کنٹرول کے قیام کے بغیر کوئی معاہدہ ہونے کا امکان نہیں ہے جبکہ ڈی پی دہرنے شرائط تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں واپسی کا عندیہ بھی دے دیا تھا۔
یہ صورت حال جب بھٹو کے علم میں آئی تو انہوں نے بھارتی نمائندے کو ملاقات کے لیے بلایا ۔رفیع رضا کے مطابق اس ملاقات کے بعد بھارتی نمائندے کے لہجے میں کافی تبدیلی آگئی۔ ان کا خیال تھا کہ جنگ بندی لائن کے دونوں اطراف آزادانہ نقل و حمل اور بچھڑے خاندانوں کے ملاپ کے تدریجی مرحلے سے اس کی سنگینی کم کی جا سکتی ہے۔یہیں سے شملہ کے مقام پر دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق ہو گیا ۔

انڈیا کے صحافی کلدیپ نائر نے مذاکرات سے قبل پاکستان کا دورہ کیا تھا (فوٹو: این ڈی ٹی وی)
ذوالفقار علی بھٹو نے ان ابتدائی مذاکرات کے بعد اپنا طویل غیر ملکی دورہ کیا۔ انہوں نے بارہ دنوں میں 14 ملکوں کا سفر کیا۔ جس کا مقصد دوست ممالک سے شملہ میں ہونے والے مذاکرات کے لیے حمایت حاصل کرنا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو اس وقت تک پاکستان کے صدر تھے۔ وہ اپنے وفد کے ساتھ 28 جون کو چندی گڑھ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے شملہ پہنچے۔ ان کے ساتھ سیکریٹری خارجہ عزیز احمد خان، معاون خصوصی رفیع رضا، وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل آفتاب احمد خان مذاکراتی ٹیم کا حصہ تھے۔
بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے انہیں ہیلی پیڈ پر خوش آمدید کہا۔ ان کی ٹیم میں وزیر خارجہ سورن سنگھ، سکریٹری خارجہ ٹی این کول اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری بی این حسکر  شامل تھے۔
راولپنڈی اور مری میں مذاکرات کی ابتدائی شرائط طے کرنے والے دہر بیماری کی وجہ سے مذاکرات سے قبل ہسپتال میں داخل ہو گئے تھے۔
کلدیپ نائر سمیت کچھ بھارتی صحافیوں نے ان کو جان بوجھ کر مذاکرات سے باہر رکھے جانے کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ پاکستانی صدر نے اپنے وفد کے ساتھ ہسپتال جا کر دہر کی عیادت کی۔
ہندوستان کے معروف صحافی اور دانشور کلدیپ نائر نے ان مذاکرات سے قبل پاکستان کا تفصیلی دورہ کیا تھا۔ صدر بھٹو کے علاوہ وہ سابق صدر ایوب خان سے بھی ملے۔ واپسی پر انہوں نے اندرا گاندھی کو پاکستانی قوم اور حکومتی حلقوں کے احساسات اور سوچ سے آگاہ کیا۔
کلدیپ نائر اپنی آپ بیتی میں مذاکرات میں ہندوستانی شرائط کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’ ہندوستان کی کوشش تھی کہ جنگ بندی لائن کی حیثیت کو بدل کر اقوام متحدہ کے امن مشن کے فوجی مبصرین کو واپس بھیج دیا جائے۔‘
بےنظیر بھٹو نے اپنی آپ بیتی میں اس حوالے سے لکھا ہے کہ اندرا گاندھی اپنے مفاد میں کشمیر کا ایسا حل چاہتی تھیں جس میں ان کے دعوے کو مان لیا جائے جبکہ پاکستان مرحلہ وار اقدامات کا متمنی تھا۔ جس میں جنگ میں بھارت کے زیر قبضہ علاقوں کی واپسی، جنگی قیدیوں کی رہائی اور مسئلہ کشمیر شامل تھا۔
بھارتی وفد پاکستانی تجاویز کی بنیاد پر مذاکرات کو آگے بڑھانے سے پہلو تہی کر رہا تھا۔ بطور خاص ٹی این کول کے غیر لچکدار رویے نے 29 اور 30 جون کے مذاکرات میں آگے بڑھنے کی کوئی صورت پیدا نہ ہونے دی۔

سرکاری مہر کے بغیر معاہدے پر دستخط کیے گئے (فوٹو: شٹر سٹاک )

واپسی کا سامان باندھ لو

دو جولائی کی دوپہر بینظیر بھٹو اپنے کمرے میں تھیں جب ان کے  والد نے انہیں کہا کہ ’سامان لو ہم کل واپس جا رہے ہیں۔‘
بے نظیر لکھتی ہیں کہ ’اعصاب شکن مذاکرات اور بھارتی وفد کی اپنے تجوید کردہ اصولوں اور شرائط پر اصرار نے عجیب صورتحال پیدا  کر دی تھی۔‘
کیا ہم بغیر معاہدے کے واپس جائیں گے؟ ان کے سوال کے جواب میں بھٹو کا جواب تھا ’بھارتیوں کا خیال ہے کہ میں خالی ہاتھ جانے کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لی ان کے مطالبات مان ہوں گا۔‘
ان کا کہنا تھا ’میں پریشان کن چہرے کے ساتھ پاکسان جانے کو اس معاہدے پر ترجیح دوں گا، جس میں ہماری سرزمین کا سودا ہو جائے۔‘
واپسی سے قبل دو جولائی کی رات پاکستانی وفد نے بھارتی مذاکراتی ٹیم کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کر رکھا تھا۔
بھٹو اور اندرا کی ایک گھنٹے تک چہل قدمی اور بات چیت کے ذریعے ٹوٹتی امیدیں پھر سے بحال ہونے لگیں۔ رات کے کھانے کے بعد پاکستانی صدر اور بھارتی وزیراعظم ایک کمرے میں چلے گئےجبکہ ان کے مذاکراتی ممبران کے درمیان بھی گفت و شنید شروع ہو گئی۔
پاکستان کے سینئر صحافی محمود شام کو آج تک اس رات کا منظر یاد ہے، جب وہ بظاہر ناکام مذاکرات کے بعد واپسی کی تیاریاں کر رہے تھے۔

سینیئر صحافی محمود شام کہتے ہیں کہ مذاکرات تقریباً ناکام ہو چکے تھے (فوٹو: فیس بک)
اردو نیوز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہندوستانی، پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں میں یہ تاثر عام تھا کہ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں، اس اطلاع پر کہ رات کو کوئی بریک تھرو ہو سکتا ہے، ہم سب چوکنے ہو گئے اور بے چینی سے
خبر کا انتظار کرنے لگے۔‘

مذاکرات کے ترمیم شدہ مسودے کیا تھا؟

بھارتی مذاکرات کار  اپنے مرتب شدہ مسودے پر اصرار کر رہے تھے۔ ایسے میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل آفتاب احمد خان نے رفیع رضا سے کہا کہ وہ مذاکرات کے مزید جاری رہنے کی صورت میں پاکستان کے مفاد اور پالیسی کے مطابق معاہدے کے متن میں شامل کرنے کے لیے الفاظ اور جملے تجویز کریں۔
رفیع رضا کے مطابق انہوں نے بھارتی مجوزہ مسودے میں شامل کرنے کے لیے لائن آپ کنٹرول کے بارے میں  یہ جملہ تجویز کیا۔
’دونوں اطراف کی تسلیم شدہ اپوزیشن کے خلاف کسی بھی قسم کے تعصب کے بغیر ‘
رات کے کھانے کے بعد جب دونوں سربراہان مملکت میں اس جملے کو مسودے میں شامل کرنے کے بارے میں بات چیت ہو رہی تھی تو انہوں نے رفیع رضا اور حسکر کو بھی اس میں شامل کر لیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اندراگاندھی اپنے سٹاف کے ساتھ دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔
بھٹو نے رفیع رضا کو بتایا کہ مسز گاندھی ڈرافٹ میں شامل کیے گئے الفاظ کا اپنی ٹیم کے ممبران  کے ساتھ مل کر جائزہ لیں گی اور پھر انہیں مطلع کیا جائے گا۔
ذوالفقار علی  بھٹو، عزیز احمد خان اور رفیع رضا بھارتی جواب کا انتظار کرنے لگے۔ بھارتی وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری حسکر ان سے ملنے پہنچ گئے۔ ان کا جواب تھا کہ بھارتی مذاکرات کاروں نے مسودہ فائنل کر لیا ہے۔ اب اس کی عبارت میں تبدیلی سارے عمل کو خراب کر دے گی۔
ذوالفقار علی بھٹو نے چھوٹتے ہی جواب دیا کہ ان کی نومولود حکومت کے لیے اپنے عوام کی توقعات سے ہٹ کر کوئی حل قبول کرنا ممکن نہ ہوگا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے ایک موقع پر بینظیر بھٹو کہہ دیا تھا کہ لگتا ہے معاہدہ ناکام ہو جائے گا (فوٹو: فیس بک، پیپلز پارٹی)

بلیئرڈ  کا ٹیبل مذاکرات کی میز بن گیا   

اعصاب شکن واقعات کے دوران بھارتی وفد بلیئرڈ روم میں مسلسل گفت و شنید میں مصروف تھا۔ بھارتی مصنف پیلو مودی اپنی کتاب ’ذلفی مائی فرینڈ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’بلیئرڈ روم کا دروازہ کھلا تو ہم نے دیکھا کہ جب جیون رام بلیئرڈ ٹیبل پر بیٹھے ہیں جبکہ اندراگاندھی اور دیگر لوگ سرجوڑے مسعودے کے نکات پر مشورے میں مصروف تھے۔اسی دوران حسکر رفیع رضا کو لے کر اس کمرے میں آ گئے۔ مذاکرات کا مسودہ سامنے میز پر رکھا ہوا تھا۔ رفیع رضا نے انہیں مجوزہ  تبدیلی کے بارے میں بتانے کی کوشش کی مگر ان میں سے کوئی بھی سننے پر آمادہ نہ تھا، انہیں بتایا گیا کہ اب متن میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہاں پر اندرا گاندھی نے مداخلت کرتے ہوئے رفیع رضا کو بات جاری رکھنے کا کہا۔‘
وہ لکھتے ہیں کہ ’میں نے اپنی بات پوری کی تو بھارتی وزیراعظم کا سوال تھا کہ یہ جملہ مسودے میں کس جگہ شامل ہو سکتا ہے۔ اندرا گاندھی نے انہیں مزید کہا کہ یہ الفاظ سارے معاہدے کے جوہر کو بدل دیں گے۔‘
رفیع رضا ڈرافٹ میں ان الفاظ کی جگہ کی نشان دہی کر کے واپس لوٹ آئے۔ بھٹو اور عزیز احمد خان انتظار میں اتنے بے چین تھے کہ انہیں دیکھتے ہی بے ساختہ اچھل کر کھڑے ہو گئے۔

لڑکا ہے۔۔۔ لڑکا ہے   

اس لمحے صدر بھٹو اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنے چھوٹے سے کمرے میں ایسے انتظار کر رہے تھے جس طرح زچہ  و بچہ وارڈ کے باہر متوقع والد کسی خبر کا منتظر رہتا ہے اچانک حسکر کا مسکراتا ہوا چہرہ نمودار ہوا۔
’وزیراعظم اس پر راضی ہیں۔‘ اس کے الفاظ پاکستانی وفد کے لئے سب سے بڑی خوشخبری تھے۔
بے نظیر بھٹو اپنی یادداشتوں میں لکھتی ہیں کہ وہ اوپر والی منزل پر اپنے کمرے میں تھیں جب انہیں نیچے شور سنائی دیا اور ان کے کانوں میں یہ الفاظ پڑے ’لڑکا ہے، لڑکا ہے۔‘
ان کے مطابق نیچے اس قدر شور تھا کہ وہ دونوں سربراہوں کے درمیان معاہدے پر دستخط کی تاریخی تقریب کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ سکیں۔
محمود شام نے اردو نیوز سے گفتگو میں معاہدے کے حوالے سے کہا کہ ’یہ پاکستان کی کامیابی تھی کہ اسے کمزور پوزیشن میں ہونے کے باوجود 5 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ واپس مل گیا۔ بھارت نے جنگی قیدیوں کی واپسی کا عمل شروع کرنے پر بھی مثبت رویے کا مظاہرہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا کہنا تھا کہ جنگی قیدیوں کا معاملہ انسانی مسئلہ ہے بھارت انھیں زیادہ دیر تک اپنے پاس نہیں رکھ سکتا، البتہ پاکستانی علاقہ واپس نہ ملنے کی صورت میں ہماری مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔‘

بھٹو نے اندراگاندھی کو بتایا کہ مذاکرات کی ناکامی سے دونوں کا نقصان ہو گا (فوٹو: شٹر سٹاک)

کیا مسئلہ کشمیر دو طرفہ مسئلہ بن گیا ؟

شملہ معاہدے کے بعد کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان جنگ بندی لائن آف کنٹرول کہلانے لگی۔ معاہدے کے مخالفین نے اسے بھٹو کی ناکامی قرار دیا۔ انڈیا نے بھی اس کی بنیاد پر کشمیر کو دو طرفہ مسئلہ قرار دینے پر اصرار کرنا شروع کر دیا۔
اس حوالے سے ایک سوال بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ کیا لائن آف کنٹرول نئی جنگ بندی لائن کے مترادف بن گئی، اور کیا اقوام متحدہ کا اس مسئلے سے تعلق ختم ہوگیا؟
گزشتہ نصف صدی میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے مبصرین  کی لائن آف کنٹرول پر موجودگی بھارت کے اس دعوے کی نفی کرتی ہے۔
معروف یورپی محقق رابرٹ جی وار سنگ اپنی کتاب ’انڈیا پاکستان اینڈ دی کشمیر ڈسپیوٹ‘ میں فکر انگیز حقائق بیان کرتے ہیں۔
ان کے مطابق ’اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ لائن آف کنٹرول کو شملہ معاہدے کی قانونی اولاد قرار دیا جائے۔ شملہ مکمل طور پر دو طرفہ معاہدہ تھا جس میں کسی عالمی فورم کی شرکت، گارنٹی اور کسی قسم کا مواد شامل نہ تھا۔‘
مصنف کے مطابق ’اس معاہدے سے بھارت لائن آف کنٹرول کو نئی جنگ بندی لائن نہیں قرار دے سکتا۔ اصل جنگ بندی لائن میں کچھ جغرافیائی اور نام کی تبدیلی ہوئی ہے۔ ان کے خیال میں اس معاہدے سے پاکستان کا اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا حق بھی ختم نہیں ہوا۔‘
رابرٹ کا مزید کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن مشن کے بارے میں شملہ معاہدہ میں کچھ نہیں کہا گیا۔ اقوام متحدہ کے فوجی آبزرور مشن جو پاکستان اور بھارت دونوں میں تعینات تھےلائن آف کنٹرول پر ابھی تک موجود ہیں ۔ان کی تعیناتی اور سرگرمیاں اس بات کا اظہار ہیں کہ اقوام متحدہ کا مسئلہ کشمیر سے تعلق ختم نہیں ہوا۔

سرکاری مہر کے بغیر معاہدہ   

معاہدے پر دستخط کے بعد جب اس پر سرکاری مہر ثبت کرنے کی باری آئی تو پتا لگا کہ پاکستان کی سرکاری مہر دستیاب نہ تھی۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک روز قبل مذاکرات کی ناکامی کے تاثر کی وجہ سے پاکستانی وفد نے اپنا سرکاری سامان واپسی کے لیے بک کروا دیا تھا جس میں آفیشل مہر بھی شامل تھی۔ اس لیے ہندوستان نے بھی اس وقت اپنی سرکاری مہر دستاویزات پر نہیں لگائی۔
پیلو مودی کے مطابق ہماچل بھاون میں معاہدے کے وقت مسودہ ٹائپ کرنے کے لئے ٹائپ رائٹر دستیاب نہ تھا۔ ہنگامی طور پر ہوٹل اوبرائے سے ٹائپ رائٹر منگوایا گیا۔ یوں یہ معاہدہ واحد سرکاری دستاویز ہے جو ایک ہوٹل کی سٹیشنری پر ٹائپ کی گئی۔
پیلو مودی کے دونوں سربراہان کو کمرے میں بند کرنے کے مشورے نے بھی کئی لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال دیا۔ الہ آباد ہائی کورٹ بار کے ممبران نے اس کی پارٹی کے کارکنوں کو طلب کرکے ان سے باز پرس کی۔
بھارتی اپوزیشن  نے بھی شملہ معاہدے کی سخت مخالفت کی۔جن سنگھ کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر اٹل بہاری واجپائی نے اندرا حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ دہلی میں کانگریس اور جن سنگھ کے حامیوں میں تصادم کی نوبت تک آ گئی۔
محمود شام نے اپنی یادداشتوں کو تازہ کرتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا کہ ’جب واجپائی انڈیا کے وزیراعظم بنے تو ان سے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے شملہ معاہدے کے خلاف ان کی تقریروں کا حوالہ دے کر سوال کیا تو واجپائی جواب میں صرف یہ کہہ سکے ’یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس وقت  ہم اپوزیشن میں تھے۔‘
پاکستان میں بھٹو کے مخالفین نے بھی ایسا ہی طرز عمل اپنایا البتہ بیگم رعنا لیاقت علی خان سمیت  بہت سارے سیاسی رہنماؤں نے معاہدے کی حمایت بھی کی۔
جب شملہ معاہدے پر دستخط کیے گئے تو رات 12 بج کر 40 منٹ کا وقت تھا، یعنی تین جولائی کا آغاز ہو چکا تھا۔ اس معاہدے پر دو جولائی کی تاریخ  لکھی ہوئی ہے۔
رفی رضا نے اس غلطی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’غلط تاریخ مگر درست معاہدہ‘