شوگر اسیکنڈل: لیگی رہنما پرویز ملک کل نیب راولپنڈی طلب

نیب راولپنڈی نے شوگر اسکینڈل کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز ملک کو کل طلب کرلیا۔

پرویز ملک کو نیب راولپنڈی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پرویز ملک سے بطور سابق وزیر تجارت تمام ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔

اسکے علاوہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اجلاس اور انٹرنیشل سطح پر چینی قیمتوں کے تعین کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ نیب شوگر انکوائری کیس میں پنجاب کے صوبائی وزرا کو بھی طلب کر چکی ہے۔ صوبائی وزرا میاں اسلم اور محسن لغاری کو نیب راولپنڈی نے 4مئی کو طلب کر رکھا ہے۔

محسن لغاری اس وقت وزیر آبپاشی پنجاب ہیں۔ نیب نے کہا ہے کہ مالی سال 19-2018 میں شوگر پر دی جانے والی سبسڈی کا ریکارڈ بھی ساتھ لائیں۔

شوگر کیس: وزیر آبپاشی پنجاب محسن لغاری نیب میں طلب

شوگر اسکینڈل

گزشتہ سال ستمبر 2020 میں نیب نے قانونی، معاشی اور شوگر انڈسٹری کا تجربہ رکھنے والے ماہرین پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی۔ تحقیقات کی نگرانی ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی کو دی گئی ہے۔

وفاقی حکومت نے 21 فروری 2020 کو ملک بھر میں چینی کی قیمت میں یکدم اضافے اور اس کے بحران کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے 4 اپریل کو اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔

انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق جنوری 2019 میں چینی کی برآمد اور سال 19-2018 میں فصلوں کی کٹائی کے دوران گنے کی پیدوار کم ہونے کی توقع تھی اس لیے چینی کی برآمد کا جواز نہیں تھا جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

جس کے بعد 21 مئی کو حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظرعام پر لائی تھی جس کے مطابق چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصہ رکھنے والے 6 گروہ کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ، 2 کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے۔

وزیراعظم عمران خان نے 7 جون کو شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف سفارشات اور سزا کو منظور کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کی تھی۔

جہانگیر ترین جون میں انگلینڈ روانہ ہوگئے تھے۔ وہ انکوائری کمیشن کی جانب سے چینی بحران کی فرانزک آڈٹ رپورٹ جاری کرنے سے قبل ہی ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

بعد ازاں کئی ماہ انگلینڈ میں قیام کے بعد نومبر میں وطن واپس آئے تھے اور واپسی پر لاہور میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے بتایا تھا کہ وہ علاج کیلئے بیرون ملک گئے تھے اور میں اس مقصد سے گزشتہ 7 سال سے بیرون ملک جا رہا ہوں، علاج مکمل ہونے کے بعد اب وطن واپس آ گیا ہوں۔

متعلقہ خبریں