شہبازشریف آف لوڈ،بیرون ملک نہ جاسکے

ان کی 3 جولائی کو پاکستان واپسی متوقع تھی

پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر شہبازشریف لاہور سے لندن نہ جاسکے۔امیگریشن حکام نےعلامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر انھیں روک ليا اور آف لوڈ کرکے واپس بھيج ديا۔

قومی اسمبلی ميں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نےلاہور ہائيکورٹ سے اجازت ملنے کے بعد آج صبح 4 بج کر50 منٹ پر غيرملکی ایئرلائن کی پرواز سے قطرروانہ ہونا تھا جہاں انہوں نے10 روز قيام کے بعد علاج کے لیے لندن جانا تھا۔

شہباز شریف پرواز کی روانگی سے کچھ دير پہلےائیر پورٹ پہنچے توايئرلائن نے شہبازشریف کوبورڈنگ پاس بھی جاری کردیا ليکن ایف آئی اے امیگریشن حکام نے انھیں طيارے تک جانے سے روک دیا۔

ایف آئی اے حکام نےشہباز شریف کو بتایا کہ ان کے سسٹم میں ابھی تک بلیک لسٹ ہیں،اس لیےانہيں سفر کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

شہباز شریف کےساتھ عطا اللہ تارڑ،مریم اورنگزیب اورعظمیِ بخاری بھی موجود تھیں۔ایف آئی اے حکام نے شہباز شریف کو آف لوڈ فارم حوالے کيا جس پر آف لوڈ کرنے کی وجہ بھی تحریر کی گئی۔

شہباز شریف ایئرپورٹ سے واپس اپنی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے۔اپوزيشن ليڈر نے پاکستان سے قطر اور پھر لندن جانا تھا۔ قطرمیں 10 دن قيام کے بعد ان کا پروگرام لندن جانے کا تھا جہاں سے 3 جولائی کو ان کی پاکستان واپسی متوقع تھی۔

جمعہ کی دوپہر لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کو علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی مشروط اجازت دی۔ اپوزيشن رہنما نے عدالت کو بتایا کہ وہ کينسر کے مريض ہيں اور جب بھی بيرونِ ملک گئے،مقررہ وقت پر واپس آگئے۔عدالت نے شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب بھی طلب کرلیا۔

جمعہ کو وفاقی وزیر فواد چوہدری نے شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینے کے عدالتی فیصلے پر کڑی تنقید کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون کے ساتھ مذاق ہے، فیصلے کیخلاف تمام قانونی راستے اختیار کریں گے۔ پی ٹی آئی رہنماء بابراعوان نے کہا تھا کہ پاکستان شریف برادران کیلئے اقتدار کی چراگاہ ہے۔

متعلقہ خبریں