شہبازشریف معاملہ:وفاق نےہائیکورٹ کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

Supreme Court of Pakistan

فوٹو: آن لائن

وفاقی حکومت نے بلیک لسٹ سے نام نکالنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ وفاق نے اپیل وزارت داخلہ کے ذریعے دائر کی۔

حکومت کی جانب سے 17 مئی بروز پیر سپریم کورٹ میں لاہو ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کیا گیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے دائر اپیل میں شہباز شریف کو فریق بنایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کا نام پی این آئی ایل میں تھا۔ لاہور ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کیے بغیر حتمی ریلیف فراہم کر دیا۔

وفاق کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا لاہور ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دیا جائے، ان کے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا یکطرفہ فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔ لاہور ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام سے جواب مانگا نہ کوئی رپورٹ۔ لاہور ہائی کورٹ کا حکم قانون کی نظر میں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

درخواست میں وفاق کا کہنا ہے کہ نوٹس کے بغیر لاہور ہائی کورٹ کا بیرون ملک اجازت دینے کا جواز نہیں تھا، شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی درخواست پر اسی روز فیصلہ سنا دیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے قانونی اصولوں کے برعکس فیصلہ سنایا۔

وفاق کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کے واپس آنے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ شہباز شریف نواز شریف کی واپسی کے ضامن ہیں۔ ان کی اہلیہ، بیٹا، بیٹی اور داماد پہلے ہی مفرور ہیں۔

دوسری جانب وزارت داخلہ نے شہبازشریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے، نوٹی فکیشن کے مطابق شہباز شریف آج سے بیرون ملک سفر کرنے کے مجاز نہیں رہے۔ ان کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کی وجوہات بھی نوٹی فکیشن میں درج کی گئی ہیں۔

وزیر داخلہ شیخ رشید کا شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق کہنا ہے کہ نیب نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی اور کابینہ نے اس کی منظوری دی۔