شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے کابینہ کو سفارش کردی: شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ نیب کی درخواست پر مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کے لیے وفاقی کابینہ کو سفارش کردی گئی ہے۔
بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں شیخ رشید احمد نے بتایا کہ ‘وفاقی کابینہ کو یہ درخواست ای سی ایل کے معاملات دیکھنے والی کابینہ کی تین رکنی کمیٹی کی سفارش پر کی گئی ہے۔’
ان کے مطابق ‘تین رکنی کمیٹی نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے معاملے پر بدھ کے روز غور کیا اور اتفاق رائے سے وفاقی کابینہ کو سفارش کی ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جائے۔
مزید پڑھیں
تین رکنی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور مشیر داخلہ مرزا شہزاد اکبر شریک ہوئے۔ فروغ نسیم نے اجلاس میں آنا لائن شرکت کی۔
شیخ رشید احمد کے مطابق ‘شہباز شریف خود اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے ضامن ہیں اور ان کی جانب سے ہمیں ابھی تک کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی تاہم وہ 15 روز کے اندر ہمیں نظرثانی کی درخواست دے سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ‘ٹی ٹی کیس میں ان کے خاندان کے پانچ افراد مفرور ہیں جبکہ تمام 14 ملزمان کے نام ای سی ایل پر ہیں۔’
‘آرٹیکل 25 کے مطابق جب باقی ملزم ای سی ایل پر ہوں تو کسی ایک ملزم سے خصوصی سلوک نہیں کیا جاسکتا، عدالتی فیصلہ بلیک لسٹ سے متعلق ہے لیکن شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ پر نہیں ہے بلکہ 7 مئی 2021 کے آرڈر پر ہے۔’
شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ‘ وزارت داخلہ کو 90 روز کے اندر درخواست کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور وہاں شہباز شریف اگر خود بھی پیش ہونا چاہیں تو پیش ہوسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ‘ہم سے کسی طبی مسئلے کی بات نہیں کی گئی جبکہ اس سے پہلے کیسز میں طبی بنیاد پر ذکر کیا گیا تھا۔

شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ‘شہباز شریف 15 روز کے اندر ہمیں نظرثانی کی درخواست دے سکتے ہیں’ (فوٹو: اے ایف پی)
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے واضح کیا کہ ‘آرٹیکل 25 کے مطابق جب باقی ملزم ای سی ایل پر ہوں تو کسی ایک ملزم سے خصوصی سلوک نہیں کیا جاسکتا، عدالتی فیصلہ بلیک لسٹ سے متعلق ہے لیکن شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ پر نہیں ہے بلکہ 7 مئی 2021 کے آرڈر پر ہے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو سنیچر کے روز امیگریشن حکام نے لاہور ایئر پورٹ پر بیرون ملک جانے سے روک دیا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کی درخواست  منظور کرتے ہوئے انہیں ایک مرتبہ طبی بنیادوں پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔
جسٹس علی باقر نجفی نے شہباز شریف کی جانب سے نام بلیک لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ سنایا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق شہباز شریف کو آٹھ مئی سے تین جولائی تک علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی۔