شہباز شریف کو طبی بنیادوں پر بیرون ملک جانے کی اجازت

لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کی درخواست  منظور کرتے ہوئے انہیں ایک مرتبہ طبی بنیادوں پر بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔
عدالت عالیہ نے شہباز شریف کو 8 مئی سے 5 جولائی تک علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔
بلیک لسٹ سے شہباز شریف کا نام نکالنے کی درخواست کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس باقر علی نجفی نے کی۔ 
جمعے کو درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے شہباز شریف کو طلب کیا جس پر وہ دو بجے عدالت پہنچے۔
مزید پڑھیں
دوران سماعت سرکاری وکیل نے شہباز شریف کی درخواست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے درخواست میں کسی جگہ ہر نہیں لگا کہ ایمرجینسی میں جانا ہے۔
چیف جسٹس نے عدالت میں موجود مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے پوچھا کہ اگر وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ ’مجھے یاد ہے مارچ 2020 میں کورونا وائرس عروج پر پہنچ گیا تھا، کورونا کے باعث دنیا بھر کی ایئر لائن فلائیٹ آپریشن بند کررہی تھیں، برطانیہ سے پاکستان کی آخری فلائیٹ تھی، میں نے اپنی بوڑھی اور بیمار ماں اور بھائی کو وہی چھوڑا۔‘
شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت میں اپنے دلائل میں کہا کہ ’مسلم لیگ ن کے صدر کو آشیانہ اور رمضان شوگر ملز کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، دونوں مقدموں میں ہاٸی کورٹ نے ضمانت دے دی تھی۔‘
حکومتی احکامات کو کالعدم قرار دے دیا تھا، اب  دوبارہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا ہے۔
 

شہباز شریف کو آشیانہ اور رمضان شوگر ملز کیس میں ضمانت مل گئی تھی۔ فوٹو اے ایف پی
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ’شہباز شریف نے علاج کے لیے برطانیہ جانا ہے، سنیچر کے دن فلاٸیٹ کی بکنگ ہو چکی ہے، 22 مٸی کو ڈاکٹر مارٹن سے شہباز شریف کے چیک اپ کی تاریخ لی گٸی ہے۔‘
شہباز شریف کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ ’ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کا نام بلیک لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے، جبکہ شہباز شریف پر اس قسم کا کوئی الزام نہیں ہے، ان نام بلیک لسٹ میں رکھنا غیر قانونی ہے۔‘
وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ بلیک لسٹ A, B کیٹگری ریاست مخالف، انسانی سمگلنگ، دہشت گردی یا دیگر سنگین جرائم سے متعلق ہیں، جبکہ شہباز شریف تین مرتبہ وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں اور اس وقت اپوزیشن لیڈر بھی ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔