شہباز شریف کی صف میں کون کون ہے؟ ماریہ میمن کا کالم

میدان سیاست نئی صف بندی کے اشاروں اور خبروں سے گرم ہے۔ اس صف بندی کا آغاز پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی راہیں جدا ہونے سے ہی ہو گیا تھا مگر شہباز شریف کی رہائی اور سرگرمیوں نے سارے عمل میں مزید جان ڈال دی ہے۔ 
سب سے پہلے شہباز شریف کی رہائی کی خبریں متوقع اور تقریبا یقینی تھیں۔ اس میں ایک رکاوٹ آئی جب ڈبل بنچ ان کی ضمانت پر متفق ہوتے ہوتے رہ گیا مگر یہ رکاوٹ فوراً ہی دور ہو گئی اور تین ججوں کے متفقہ فیصلے کے نتیجے میں شہباز شریف کو رہائی مل گئی۔
پھر عید سے قبل آخری ورکنگ ڈے کو شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازت بھی مل گئی۔ اس میں بھی رکاوٹ آئی جب ان کو لندن پرواز سے ایف آئی اے نے روک دیا۔ اس رکاوٹ کے بھی دور ہونے کا امکان ہے۔ گویا ایک طرف شہباز کو ریلیف مل رہے ہیں اور دوسری طرف رکاوٹیں بھی ڈالی جا رہی ہیں۔ 
مزید پڑھیں
ان رکاوٹوں کے ڈالنے والوں اور ہٹانے والوں سے ہی نئی صف بندی کا اندازہ ہوتا ہے۔
یہ واضح ہے کہ وزیراعظم اور ان کے قریبی سیاسی حلقے شہباز شریف کو ریلیف کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ شہباز شریف کی صف میں کون کون ہے؟
یہ بات شروع سے واضح رہی ہے کہ شہباز شریف فیصلہ سازوں کی ہمیشہ ترجیح رہے ہیں۔ معاملہ فہم  اور درمیانی راستہ نکال کر اپنی حدود کے اندر کام کرنے والے شہباز کو کئی بار اشارے ہوئے مگر اپنے بھائی اور پارٹی سربراہ نواز شریف کی ضد اور اپنی مخصوص سیاسی سوچ پر اصرار نے ان کی نیا پار نہیں لگنے دی۔

ہ واضح ہے کہ وزیراعظم اور ان کے قریبی سیاسی حلقے شہباز شریف کو ریلیف کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
کیا اس بار کی لندن یاترا درمیانی راستہ نکالنے کی ایک اور کوشش ہے، اس کا پتہ تو واپسی کے بعد ہی پتہ چلے گا۔
شہباز شریف کے متوقع حلیفوں میں پیپلز پارٹی نے فورا ہی اپنے آپ کو نمایاں کیا ہے۔ پی ڈی ایم میں بھی وہ شہباز شریف کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں اور اسمبلی میں بھی۔ وہ پیپلز پارٹی والے رہنما جو مریم نواز کے ساتھ ہوئی بیٹھکیں بھلا کر تنقید کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے ان کا شہباز شریف کے لیے خاص نرم گوشہ پیدا ہو چکا ہے۔
کبھی وہ حمزہ شہباز کو وزیراعلی بنانے کی دعوت دیتے ہیں اور کبھی شہباز شریف کی لندن روانگی کے بھی حق میں نظر آتے ہیں۔
شہباز شریف کے لیے نرم گوشہ پی ٹی آئی کے بھی اس خاموش حلقے میں ہے جو وزیراعلی پنجاب اور وزیراعظم سے دور اور متنفر ہیں۔ اس میں نمایاں تو جہانگیر ترین گروپ ہے مگر دیگر خاموش رہنما بھی شامل ہیں جو ابھی تیل اور تیل کی دھار دیکھ رہے ہیں۔ اگر بات کسی نہج تک پہنچی تو جہانگیر ترین کے لیے شہباز شریف کے ساتھ ورکنگ ریلیشن آسان فیصلہ ہو گا۔

شہباز شریف کے متوقع حلیفوں میں پیپلز پارٹی نے فورا ہی اپنے آپ کو نمایاں کیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی اور مخدوم احمد محمود جبکہ پی ٹی آئی کا جہانگیر ترین اور سرائیکی گروپ اگر حالات مناسب ہوگئے تو شہباز شریف کے ساتھ بہت اطمینان سے چلنے کو تیار ہوں گے۔ 
اس نئی صف بندی میں سب سے نازک پوزیشن مریم نواز کی ہے۔ اپنی انتہائی اپروچ جو اداروں پر تنقید سے شروع ہوئی اور پھر استعفوں پر اصرار نے ان کی راہیں پیپلز پارٹی سے بھی جدا کی اور اپنی پارٹی کے اندر بھی صلح جو گروپ ان سے کھچا کھچا ہے۔
اب شہباز شریف کی منظر پر آمد سے وہ ایک بار پھر ٹوئٹر تک محدود ہو گئی ہیں اور شہباز شریف کی لندن سے واپسی کے بعد یہ بھی امکان ہے کہ پہلے کی طرح ٹوئٹر سے بھی پرہیز کا وقت آجائے۔
امکان یہ ہے کہ وہ اس صف بندی سے علیحدہ چلنے کی کوشش کریں گی اور اگر شہباز پراجیکٹ مکمل نہ ہوا تو پھر دوبارہ سامنے آئیں گی۔ 

نئی صف بندی میں سب سے نازک پوزیشن مریم نواز کی ہے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
وزیر اعظم عمران خان کو البتہ اب چومکھی لڑائی لڑنی ہے۔ ایک طرف شہباز شریف اور پیپلز پارٹی ہیں جو اپنے آپ کو ان کے متبادل کے طور پر پیش کر رہ ہے ہیں جو کہ  پی ٹی آئی کے اندر بھی حمایت رکھتے ہیں اور دوسرا نواز شریف کے بیانیے والا گروپ ہے۔
وزیراعظم کے لیے پی ڈی ایم کے ٹوٹنے میں تسلی تو ہے مگر یہ بھی واضح ہے کہ پییلز پارٹی نے پی ڈی ایم کو استعمال کرنے کے بعد صرف اب اپنی حکمت عملی بدلی ہے۔
اقتدار میں اپنے حصے کو بڑھانے پر وہ ابھی بھی سرگرم ہے اگرچہ اب ان کی سرگرمی زیادہ پس پردہ ہے۔ 
اس تازہ صف بندی کے شارٹ اور لانگ ٹرم دونوں مقاصد ہیں۔ اگر حکومت کی بساط کو خطرہ بڑھا تو نئے کھلاڑی ان کی جگہ لینے کے فورا اپنے آپ کو پیش کریں گے۔
ورنہ 2023 کے انتخابات میں یہ گروپنگ کام آئے گی جب وفاقی اور پنجاب حکومت میں پی ٹی آئی کی جگہ لینے کے لیے کشمکش ہوگی۔ سیایست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا تعین اگلے کچھ ماہ اور یہ نئی صف بندیاں کریں گی۔