شہزاداکبر نے بشیرمیمن کو50کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا

Shahzad Akbar

فوٹو: آن لائن

وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو 50کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا۔

قنونی نوٹس میں بشیر میمن سے الزامات پر غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

نوٹس کے مطابق بشیر میمن نے بے بیناد الزامات عائد کیے اور بے بنیاد الزامات سے موکل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ نوٹس میں 20لاکھ روپے قانی فیس کے ادا کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک انٹریو میں سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے الزام لگایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان جسٹس فائز کے خلاف ایف آئی اے میں کیس کا اندراج چاہتے تھے جبکہ شہزاد اکبر، فروغ نسیم، اعظم خان اور ایف بی آر کے اشفاق احمد بھی اس سارے معاملے میں ملوث تھے۔

بشیر میمن نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم کے اسٹاف کے ایک سینئر رکن نے انہیں فون کرکے کہا کہ وزیراعظم نے آپ کو بلایا ہے، جب ملنے گیا تو ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ اور وزیراعظم کے مشیر احتساب شہزاد اکبر پہلے سے موجود تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اعظم خان اور شہزاد اکبر مجھے لے کر وزیراعظم آفس میں گئے جہاں عمران خان نے مجھ سے کہا کہ تم پہلے بھی بڑے اچھے کیس بناتے رہے ہو، اس کیس میں بھی ہمت کرنا اور اچھا کیس بنانا۔

بشیر میمن نے دعویٰ کیا کہ بعدازاں شہزاد اکبر کے دفتر میں جاکر انہیں پتہ چلا کہ وزیراعظم جسٹس فائز کے خلاف کیس بنانے کی بات کررہے تھے۔ اس پر میں نے حیرانی سے شہزاد اکبر اور اعظم خان سے کہا کہ آپ جسٹس فائز اور ان کی اہلیہ کے خلاف ایف آئی اے کی تحقیقات کی بات کر رہے ہیں، آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔