شہزادی ڈیانا کا انٹرویو: برطانوی حکومت کا بی بی سی کے خلاف کارروائی کا عندیہ

 برطانوی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ‘دھوکہ دہی‘ سے لیڈی ڈیانا کا انٹرویو لینے پر بی بی سے کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے جس کے بعد برطانوی نشریاتی ادارے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو یہ خبر سامنے آئی کہ ایک آفیشل انکوائری میں یہ ثابت ہو گیا کہ بی بی سی کے صحافی مارٹن بشیر نے 1995 میں لیڈی ڈیانا کو جعلی دستاویزات دکھا کر اور دھوکہ دہی سے انٹرویو دینے کے لیے قائل کیا تھا جو کہ بی بی سی کی پروڈیوسرز کے لیے طے گائیڈ لائنز کی صریحاً خلاف ورزی تھا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانوی کلچر سیکرٹری اولیو ڈاؤڈین نے کہا ہے کہ سرکاری فنڈنگ پر چلنے والے ادارے بی بی سی کےخلاف ’ایک آزاد انکوائری میں ’بی بی سی کی ناکامیاں‘ سامنے آئی ہے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ ’وزیر اب جائزہ لیں گے کہ کیا بی بی سی میں گورننس کے حوالے سے مزید اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے؟‘
برطانوی سپریم کورٹ کے سابق جج لارڈ ڈائیسن کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ بی بی سی نے شفافیت اور دیانت داری کے اپنے اعلیٰ معیارات کی پاسداری نہیں کی اور مارٹن بشیر نے بی بی سی کی گائیڈ لائنز کی ’سنگین خلاف ورزی‘ کی۔
جمعرات کو پرنس ولیم اور ہیری نے ایک بیان میں بی بی سی اور صحافی مارٹن بشیر پر سخت تنقید کی۔
اے ایف پی کے مطابق شہزادہ ولیم نے کہا کہ جس ’دھوکہ دہی‘ سے انٹرویو لیا گیا اس سے ان کے والدین کے رشتے پر ’گہرا اثر‘ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے پختہ یقین ہے کہ پینوراما پروگرام کی کوئی ساکھ نہیں، یہ دوبارہ کبھی نشر نہیں ہونا چاہیے۔‘
شہزادہ ہیری نے بھی ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’انکوائری رپورٹ انصاف حاصل کرنے اور سچ تلاش کرنے کی طرف پہلا قدم تھا، لیکن جس دھوکہ دہی کا ذکر ہوا ہے وہ آج بھی جاری ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس غیر اخلاقی اقدام نے میری ماں کی جان لی۔‘

شہزادہ ولیم نے کہا کہ جس ’دھوکہ دہی‘ سے انٹرویو لیا گیا اس سے ان کے والدین رشتے پر ’گہرا اثر‘ ہوا (فوٹو اے ایف پی)
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ جس طریقے سے بی بی سی نے شہزادی ڈیانا کا انٹرویو کیا انہیں اس پر تشویش ہے۔
بورس جانسن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئی شک نہیں کہ مجھے لارڈ ڈائسن کی انکوائری سے تشویش ہوئی ہے۔‘
’میں شاہی خاندان کے احساسات کا اندازہ لگا سکتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ بی بی سی ہر ممکن کوشش کرے گی کہ مستقبل میں ایسا کبھی نہ ہو۔‘
بی بی سی کا موقف
 بی بی سی کا کہنا ہے کہ اس انٹرویو کے بعد ادارے کو چلانے کے حوالے سے دو اہم تبدیلیاں کی گئی تھی تاہم اس حوالے سے بہت کچھ کرنا ہے۔
تاہم بی بی سی نے2016 میں صحافی مارٹن بشیر کی بطور ایڈیٹر ریلیجن دوبارہ بھرتی کا دفاع کیا، ایسے وقت میں جب اس کی کارکردگی پر پہلے ہی سے سوال اٹھائے جا رہے تھے۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ ’جہاں ثبوت مہیا ہوا‘ وہ مارٹن بشیر کے باقی کام کا بھی جائزہ لے گی (فوٹو اے ایف پی)
بی بی سی کا کہنا تھا کہ اس پوسٹ پر کڑے انٹرویو کے بعد بھرتی کی گئی۔
بشیر کی دوبارہ بھرتی کے وقت جیمز ہارڈنگ بی بی سی کے ڈائریکٹر نیوز تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ صحافی نے جعلی بینک سٹیٹمنٹس استعمال کیں، اور اگر نہیں علم ہوتا تو ’وہ انہیں نوکری پر نہیں رکھا جاتا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اس بھرتی کے وقت بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل لاڑد ہال سے مشورہ کیا تو انہوں نے اس کا براہ راست جواب نہیں دیا، لیکن کہا کہ انہوں نے بشیر کی بھرتی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
جیمز ہارڈنگ نے کہا کہ رپورٹ میں سامنے آنی والی چیزیں ’ان سب لوگوں کے لیے مایوس کن ہیں جن کا تعلق صحافت یا بی بی سی سے ہے۔‘
بی بی سی کا کہنا ہے کہ ’جہاں ثبوت مہیا ہوا‘ وہ مارٹن بشیر کے باقی کام کا بھی جائزہ لے گی۔