شہزاد اکبر کی جگہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ مصدق عباسی مشیر احتساب تعینات

وزیراعظم عمران خان نے سابق ڈی جی نیب بریگیڈیئر ریٹائرڈ مصدق عباسی کو مشیر برائے احتساب تعینات کردیاہے۔ کابینہ ڈویژن نے بدھ کو ان کے تقرر کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا ہے۔  
بریگیڈیئر مصدق عباسی کا تعلق ایبٹ آباد کی تحصیل بیروٹ سے ہے اور ان کا خاندان ایک مڈل کلاس خاندان ہے۔
ان کے والد محمد صادق عباسی اپنے علاقے کی معروف سیاسی شخصیت تھے جو قیام پاکستان سے قبل علامہ عنایت اللہ مشرقی کی خاکسار تحریک سے وابستہ رہے اور بعد میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور آخری وقت تک پکے مسلم لیگی سمجھے جاتے تھے۔  
مزید پڑھیں
انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے جبکہ انٹرمیڈیٹ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد سے کی۔  
مصدق عباسی نے 1974 میں پاکستانی فوج میں شمولیت اختیار کی اور ایک نوجوان افسر کی حیثیت سے مختلف سیکٹرز پر خدمات انجام دیں۔  
سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں احتساب کا ادارہ قومی احتساب بیورو (نیب) قائم کیا گیا تو انھیں کراچی میں ڈائریکٹر ریکوریز تعینات کیا گیا۔  
اطلاعات کے مطابق کراچی میں انھوں نے اس وقت کے پیر پگارا کے کسی قریبی ساتھی پر ہاتھ ڈالا تو ان کی شکایت پرویز مشرف تک پہنچی۔ اس کے بعد ان کا تبادلہ پشاور میں بطور ڈی جی نیب کردیا گیا۔  
سنہ 2011 میں ان کا تبادلہ پشاور سے اسلام آباد کردیا گیا جہاں وہ بطور ڈی جی آگاہی اور تدارک کام کرتے رہے۔  
نیب میں 13 برس تک خدمات انجام دینے کے بعد ان دنوں مصدق عباسی ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مختلف اخبارات میں کرپشن اور احتساب سے متعلق آرٹیکلز لکھتے ہیں اور یونیورسٹیوں میں کرپشن کے حوالے سے لیکچرز بھی دیتے رہے ہیں۔  
احتساب اور کرپشن کے حوالے سے بریگیڈیئر مصدق عباسی اپنا واضح نکتہ نظر رکھتے ہیں اور نیب کے کام کا تنقیدی جائزہ بھی لیتے رہتے ہیں۔  

وزیراعظم عمران خان نے اگست 2018 میں شہزاد اکبر کو مشیر داخلہ و احتساب مقرر کیا تھا (فائل فوٹو: پی ایم آفس)
ان کا موقف ہے کہ پاکستان میں کرپشن کی غیر واضح تعریف کی گئی ہے۔ اس کی جامع تعریف اور مزید سخت سزائیں متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ وہ کرپشن پر ایران اور چین کی طرز پر سزاؤں کے حامی ہیں لیکن اس سے پہلے کرپشن سے متعلق آگاہی، قانون سازی اور شفاف تحقیقات کو  بھی یقینی بنانے کے قائل ہیں۔  
پانامہ کیس میں نواز شریف کے خلاف دائر ریفرنسز میں تکنیکی خامیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے مصدق عباسی نے کہا تھا کہ نیب کا تمام تر انحصار جے آئی ٹی کی سفارشات پر رہا جبکہ تمام ملزمان سے نیب کے تفتیشی افسر کو خود تحقیقات کرنے کے بعد ریفرنس دائر کرنا چاہیے تھا۔  
مصدق عباسی کو آبائی علاقے میں اس لیے ہیرو مانا جاتا ہے کہ جب وہ پشاور میں تعینات تھے اس وقت انھوں نے چھ انچ قطر کی پائپ لائن کے ذریعے علاقے میں پانی کی فراہمی کا ددیرینہ مسئلہ حل کروایا تھا۔ اس سے قبل ان کے علاقے کے لوگوں کو پہاڑ سے اتر کر دور سے پانی لانا پڑتا تھا جس سے ان کی زندگیوں میں کافی مشکلات تھیں۔