صحافیوں پر حملے: پی ٹی آئی رکن کی سپیشل سیکریٹری داخلہ کو ’شٹ اپ کال‘

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عطا اللہ اور سپیشل سیکرٹری داخلہ شیر عالم محسود کے درمیان وزارت کی کارکردگی پر شدید تلخ کلامی ہوئی اور ایک موقع پر حکمران جماعت کے ایم این اے نے سینیئر بیوروکریٹ کو شٹ اپ بھی کہہ دیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں ہوا۔ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے سینیئر صحافیوں کے علاوہ سپیشل سیکرٹری داخلہ، ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد افضال احمد کوثر اور وزرات داخلہ اور انسانی حقوق کے سینیئر حکام بھی موجود تھے۔
مزید پڑھیں
بریفنگ کے دوران جب سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے کمیٹی کو بتایا کہ ’گذشتہ دو ماہ سے پولیس ان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے ملزموں کا سراغ نہیں لگا سکی‘ تو ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ ’پولیس کے پاس چہرے شناخت کرنے کی ٹیکنالوجی نہیں ہے اور اس مقصد کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج نادرا کو دی گئی ہے اور ابھی تک اس کی رپورٹ نہیں آئی۔‘
بلاول بھٹو نے اس حوالے سے سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’یہ معاملہ کل ہی ان کے نوٹس میں آیا ہے۔ وہ جمعے کو دوبارہ نادرا سے پتا کر کے کمیٹی کو اس بارے میں آگاہ کریں گے۔‘
 اس پر تحریک انصاف کے ایم این اے عطا اللہ نے کہا کہ ’وزارت داخلہ کام ہی نہیں کرتی، کمیٹی چیئرمین ان کو پابند کریں ورنہ یہ کبھی رپورٹ نہیں دیں گے۔‘
 اس بات پر سپیشل سیکرٹری داخلہ شیر عالم محسود غصے میں باآواز بلند بولے ’ایسا نہیں ہے ہم بہت کام کرتے ہیں۔‘ ان کے اس جواب پر عطا اللہ بھی شدید غصے میں آ گئے اور کہا کہ ’سیکرٹری کی جرات کیسے ہوئی ان سے اس لہجے میں بات کرنے کی۔ ساتھ ہی ان کو شٹ اپ بھی کہہ دیا۔‘

سینیئر اینکرپرسن حامد میر کا کہنا تھا کہ ’ان کے خلاف پیمرا کا کوئی آرڈر نہیں پھر بھی ان پر پروگرام کرنے پر پابندی ہے‘ (فوٹو: حامد میر ٹوئٹر)
بلاول بھٹو نے دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی مگر رکن قومی اسمبلی اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور اجلاس کا بائیکاٹ کر کے جانے لگے تو انہیں محسن داوڑ نے روک لیا اور بلاول بھٹو نے بھی انہیں بیٹھنے کی درخواست کی۔
اس کے بعد بلاول بھٹو نے سپیشل سیکرٹری داخلہ سے کہا کہ ’وزارت دو ماہ سے ابصار عالم پر حملہ کرنے والے ملزمان کی شناخت نہیں کر سکی حالانکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد وزارت داخلہ کے پاس صرف اسلام آباد کی ذمہ داری ہے۔‘
 ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں پر اسلام آباد میں حملے پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے کیونکہ دنیا بھر کے سفارت خانے بھی اسی شہر میں موجود ہیں۔‘
کمیٹی میں اینکر پرسن حامد میر، عاصمہ شیرازی اور صحافی اسد طور کے علاوہ دیگر صحافیوں نے اپنے خلاف کیسز اور اپنے اوپر حالیہ حملوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔

ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس کے مطابق ’ابصار عالم پر حملے کے سلسلے میں 250 موبائل نمبروں کی تفتیش جاری ہے‘ (فوٹو: اسلام آباد پولیس)
حامد میر کا کہنا تھا کہ ’ان کے خلاف پیمرا کا کوئی آرڈر بھی نہیں پھر بھی ان پر پروگرام کرنے پر پابندی ہے۔ گذشتہ چند روز سے کچھ گاڑیاں ان کا پیچھا کرتی ہیں،‘ اس پر بلاول بھٹو نے سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ ’حامد میر کو سکیورٹی مہیا کی جائے۔ْ‘
اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثر اور پولیس کے دیگر افسران نے صحافیوں پر حملوں کی تحقیقات پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔
ابصار عالم کی جانب سے جیو فینسگ کے ذریعے ان کے ملزمان کا سراغ لگائے جانے کے سوال پر پولیس حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ’جیو فینسنگ کے دوران حملے کی جگہ پر چار موبائل کمپنیوں کی دو لاکھ سمز کے متحرک ہونے کا ڈیٹا ملا، اور کافی فلٹرز لگائے گئے تو اب 250 نمبروں تک تفتیش پہنچ چکی ہے اور مزید تحقیق جاری ہے۔‘