صحافی کی طلبی پر عدالت ایف آئی اے پر برہم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک پاکستانی صحافی کو ایف آئی اے میں طلبی کا کال اپ نوٹس معطل کرتے ہوئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر کو 30 جون کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
جمہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے بار بار عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ عدالت بارہا نشاندہی کر چکی ہے کہ بنیادی حقوق کا خیال رکھا جائے تاہم نوٹس پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ایف آئی اے حکام مسلسل وہی ایکسرسائز دہرا رہے ہیں جس سے منع کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے ایف آئی اے نوٹسز کے خلاف تمام کیسز کو آئندہ سماعت پر یکجا کر کے سماعت کرنے کا حکم دیا اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر کو 30 جون کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ ڈائریکٹر سائبر کرائم پیش ہو کر بتائیں کہ تین نومبر کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جا رہا؟
ایف آئی اے کے نوٹس کے خلاف عدالت پہنچنے والے صحافی بلال غوری کی جانب سے ایمان مزاری اور عثمان وڑائچ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ 

چیف جسٹس نے نوٹسز کے معاملے پر ایف آئی اے پر برہمی کا اظہار کیا ہے (فوٹو: پی پی آئی)
ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کی جانب سے پیکا ایکٹ کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔  بلال غوری کو کوئی وجہ بتائے بغیر ایف آئی اے میں طلب کیا گیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ عدالت کی جانب سے کسی صحافی کو دیے گئے ایف آئی اے کے نوٹس کو معطل کیا گیا ہو۔ اس سےقبل اسلام آباد ہائی کورٹ سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم اور صحافی اسد طور کے خلاف ایف آئی اے کے نوٹسز کو بھی معطل کر چکی ہے۔