’صدر، وزیراعظم نے تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال کیا‘، رجسٹرار آفس کے اعتراضات

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے حق میں دیے گئے نظرثانی کیس فیصلے کے خلاف حکومت کی دائر کی جانے والی درخواستوں پر رجسٹرار آفس نے سات اعتراضات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ صدر اور وزیراعظم نے تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال کیا ہے۔
رجسٹرار آفس نے کہا ہے کہ از خود نوٹس دائر نہیں کیا جاتا بلکہ یہ سپریم کورٹ کا اختیار ہے۔
مزید پڑھیں
اردو نیوز کے پاس موجود رجسٹرار آفس کے اعتراضات پر مبنی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ حکومتی درخواستوں میں صدر مملکت اور وزیراعظم نے ایک سے زائد جگہوں پر تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال کیا۔ نظرثانی درخواستوں میں مقدمے کا عنوان ازخود نوٹس لکھا گیا جبکہ ازخود نوٹس دائر نہیں کیا جاتا یہ سپریم کورٹ کا اختیار ہے۔
رجسٹرار آفس کے مطابق سپریم کورٹ رولز میں نظرثانی کیس کے فیصلے میں تصحیح درخواست کی دفعہ شامل نہیں ہے جبکہ درخواستوں میں استدعا کودرست انداز میں تحریر نہیں کیا گیا۔ نظرثانی درخواست صرف سپریم کورٹ رولز کے آرڈر 28 کے تحت ہی دائر ہو سکتی ہے۔ درخواستیں ناقابلِ سماعت ہونے پر واپس کی جاتی ہیں۔
خیال رہے کہ بدھ کو حکومت کی جانب سے غیر معمولی طور پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظر ثانی درخواستوں پر عدالتی فیصلے کے خلاف کیوریٹیو یا تصحیح نظر ثانی درخواستیں دائر کی گئیں جن پر سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر واپس کیا۔
ترجمان وزارت قانون کی جانب سے ایک اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ جلد ہی اعتراضات کو دور کرنے کے بعد دوبارہ سے نظر ثانی درخواستیں دائر کی جائیں گی۔

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا۔ فائل فوٹؤ: اے ایف پی
یاد رہے کہ 26 اپریل کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ بینچ نے صدارتی ریفرنس پر فیصلے کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ہوئے ان کی اہلیہ اور ان کے بچوں کی جائیدادوں سے متعلق ایف بی آر سمیت تمام فورمز کی قانونی کارروائی کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایف بی آر کی مرتب کردہ رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی عدالتی فورم پر چیلنج نہیں ہو سکتی۔
جسٹس قاضی فائر عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے 19 جون کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کی تھی۔
سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے 7 ججز کے اپنے اکثریتی مختصر حکم میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا۔ عدالت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ان کے اہل خانہ سے ان کی جائیدادوں سے متعلق وضاحت طلب کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے پر رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرانے کا کہا تھا۔