’صورت حال خراب ہوئی تو افغانستان 90 کی دہائی میں واپس جاسکتا ہے‘

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ’اگر صورت حال خراب ہوئی تو افغانستان 90 کی دہائی میں واپس جاسکتا ہے جس سے پاکستان پر بھی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔‘
پیر کے روز قومی ادارہ صحت اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہماری خواہش ہے کہ افغانستان میں امن ہو کیونکہ افغان امن سے ہمارا مفاد جُڑا ہوا ہے۔‘
شاہ محمود قریشی کے مطابق ’اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہم نے دنیا کے ہر فورم پر اپنا کردار ادا کیا۔‘
مزید پڑھیں
’ترکی میں افغانستان کے موجودہ و سابق وزرائے خارجہ اور امن کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سے ملاقات ہوئی۔‘
انہوں نے کہا کہ ‘میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے ان افغان رہنماؤں کی گفتگو میں تشویش اور فکر دکھائی دی۔‘
پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’افغان امن عمل میں ہونے والی پیش رفت میں ایک جمود کی کیفیت ہے۔‘
’اس وقت افغانستان سے تقریباً 60 فیصد امریکی افواج کا انخلا ہو چکا ہے، امکان نظر آرہا ہے کہ ستمبر سے بہت پہلے ہی یہ انخلا مکمل ہو جائے گا۔‘
’جس رفتار سے افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ہورہا ہے اس تیزی سے گفت و شنید آگے نہیں بڑھ رہی۔‘
پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’اگر گفتگو میں پیش رفت نہیں ہوتی تو اس کا الزام پاکستان پر ڈالنا ٹھیک نہیں ہوگا کیونکہ مذاکرات کی میز پر افغان بیٹھے ہوئے ہیں۔‘
’افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، ہم افغانستان میں طاقت سے حکومت کے حصول کو قبول نہیں کریں گے۔‘

پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق ’افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں‘ (فوٹو: اے ایف پی)
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان نے بھی اس حوالے سے واضح بیان دیا ہے کہ طاقت کے سر پر افغانستان میں حکومت ناقابل قبول ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’افغانستان میں امریکہ کا ایک مقصد تھا کہ وہ اسے دوبارہ ایسا مقام نہ بننے دے جو امریکہ یا اس کے حلیفوں کو نقصان دے۔‘
’امریکہ اور اس کے اتحادی سمجھتے ہیں کہ انہیں القاعدہ اور دیگر دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑنے میں کامیابی ہوئی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’امریکہ کے مطابق انہوں نے اپنا مقصد حاصل کرلیا ہے‘، ان کے مطابق’اس میں پاکستان کا کردار مسلم رہا ہے۔‘
پاکستانی وزیر خارجہ نے وضاحت کی کہ ’ہم سی آئی اے چیف کی آمد سے بالکل بے خبر نہیں ہیں، سی آئی سے چیف بالکل پاکستان آئے تھے۔‘
’سی آئی اے چیف کی آمد کا ایجنڈا افغان امن عمل ہے۔سی آئی اے چیف نے پاکستان میں اپنے ہم منصب سے ملاقات کی۔‘