ضرورت رشتہ کا یہ اشتہار وائرل کیوں ہوا

فائل فوٹو

سوشل میڈیا پر ان دنوں لڑکی کی جانب سے اخبار میں دیا گیا ضرورت رشتہ کا اشتہار خوب وائرل ہو رہا ہے۔

اشتہار کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی قطعی وجہ یہ نہیں کہ یہ اشتہار لڑکی کی جانب سے لڑکے کیلئے دیا گیا ہے، بلکہ وائرل ہونے کی وجہ اس اشتہار میں شامل لمبی چوڑی فرمائشوں اور توقعات کی وہ فہرست ہے جو لڑکی ہونے والے شوہر یا لڑکے میں چاہتی ہے۔

The wedding ad

گزشتہ ہفتے بھارت کے مشہور اخبارات میں کانوں میں چھید اور مختصر بالوں والی ایک صاحب رائے لڑکی کے نام سے ایک اشتہار شائع ہوا، جسے ایک بڑے نفیس اور امیر فیمینسٹ شخص کی تلاش تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ اشتہار انڈیا بھر میں وائرل ہو گیا ہے۔

یہ اشتہار شمالی بھارت کے شہروں میں فروخت ہونے والے درجن بھر اخبارات کی زینت بنا اور اس پر 13 ہزار کے قریب خرچہ آیا۔ سری جان کے مطابق اتنی رقم ہم لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے دنوں کے علاوہ ہونے والی معمول کی تقریبات پر خرچ کرتے۔

اشتہار میں موجود ای میل ایڈریس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ اشتہار ایک بھائی، بہن یا کسی قریبی دوست کی طرف سے بطور مذاق شائع کرایا گیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ان کی جانب سے جب اشتہار دینے والوں سے متعلق جاننا چاہا گیا تو معلوم ہوا کہ جن افراد نے یہ اشتہار دیا تھا، درآصل انہوں نے اس کیلئے فرضی ناموں کا اںتخاب کیا، کیوں کہ وہ اپنی شناخت چھپانا چاہتے ہیں۔

ان کے مطابق 30 برس کا ہونا ایک بہت بڑا موقع ہوتا ہے خاص طور پر جب ہمارے معاشرے میں بات شادی سے متعلق ہی کی جاتی ہو۔ ان کے مطابق آپ جیسے ہی 30 کے ہوتے ہیں تو ایسے میں معاشرہ آپ پر یہ دباؤ ڈالنا شروع کر دیتا ہے کہ شادی کرو اور سکون سے معمول کی زندگی گزارنا شروع کرو۔

ان کے مطابق انھیں اس وقت تک 60 سے زائد ای میلز موصول ہو چکی ہیں۔ ساکشی کے مطابق بہت سی ای میلز سے پتا چلتا ہے کہ انھوں نے بھی اس اشتہار کو مذاق اور ایک لطیفے کے طور پر ہی لیا ہے۔

ایک شخص نے لکھا کہ وہ اس کا شریک حیات ہو سکتا ہے چونکہ وہ ایک باذوق اور صاحب رائے بالکل بھی نہیں۔ ایک خاتون نے اشتہار کے لیے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا اور کہا میں بھی مطلوبہ شخص جیسی ہی ہوں۔

متعلقہ خبریں