طالبان برسر اقتدار آئے تو برطانیہ ان سے مل کر کام کرے گا: وزیر دفاع

برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے کہا ہے کہ اگر طالبان افغانستان میں اقتدار میں آئے اور انسانی حقوق کا احترام کرتے رہے تو برطانیہ ان کے ساتھ کام کرے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بین والیس نے ڈیلی ٹیلیگراف کو انٹرویو میں بتایا کہ افغانستان میں ’جس کسی کی بھی حکومت ہوگی اگر وہ بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کرے گی تو برطانیہ کی حکومت اس سے مل کر کام کرے گی۔‘
ان کا طالبان کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’جس طرح دنیا میں دیگر ملکوں کی حکومتیں ہیں، اگر وہ ایسا رویہ اختیار کرتی ہیں جو انسانی حقوق کے خلاف ہو تو، ہم تعلقات پر نظرثانی کریں گے۔‘
مزید پڑھیں
برطانوی وزیر دفاع کے مطابق ’ہر امن عمل میں آپ دشمن کے ساتھ شرائط طے کرتے ہیں۔ یہی ایک طریقہ کار ہے۔‘
برطانوی وزیر دفاع کے یہ خیالات امریکی دورے کے موقع پر انٹرویو میں ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب افغانستان میں سخت گیر طالبان نے کئی علاقوں میں گزشتہ دو ماہ کے دوران قبضہ کیا ہے۔
 بدھ کو طالبان جنگوؤں نے پاکستان کی سرحد کے ساتھ اہم راہداری پر قبضہ کیا۔
گذشتہ دو دہائیوں سے افغانستان میں موجود امریکی و غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان جنگجوؤں نے ملک کے مختلف علاقوں میں پیش قدمی کی ہے اور سرکاری افواج کے پسپا ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔
افغانستان کی مرکزی حکومت کا صوبائی دارالحکومت اور مختلف شہروں کے مراکز پر کنٹرول قائم ہے جس کو برقرار رکھنے کے لیے اب فضائی رابطے ہی مؤثر ہوں گے۔
برطانوی وزیر دفاع نے افغانستان میں دونوں اطراف پر زور دیا کہ وہ ’لیڈرشپ کا مظاہرہ کریں اور افغانستان کو یکجا کریں۔‘

افغان طالبان نے امریکی افواج کے انخلا کے بعد کئی علاقوں میں پیش قدمی کی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
ان کا کہنا تھا کہ مغربی ملکوں نے عالمی فورمز کے ذریعے طالبان سے رابطے کیے اور اس حوالے سے ان کے درمیان ’کئی طرح کی آرا‘ تھیں۔
بین والیس نے کہا کہ ’اگر افغانستان میں دونوں کی حکومت (موجودہ گروپوں اور طالبان) ہو تو ہم سفارتی تعلقات رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور یہ سب اسی طرح ہوتا ہے۔‘
برطانوی وزیر دفاع کے مطابق طالبان بین الاقوامی طور پر تسلیم کیے جانے کے لیے بے تاب ہیں تاکہ مالی پابندیوں کا خاتمہ ہو سکے اور وہ جنگ سے متاثرہ ملک کی تعمیر نو میں شامل ہوں۔ ’آپ دہشت گرد شناخت کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کر سکتے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’آپ کو امن کے عمل میں شراکت دار بننا پڑتا ہے بصورت دیگر الگ تھلگ ہونے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ دنیا سے کٹے رہنا ان کو وہاں لے گیا جہاں وہ آخری مرتبہ تھے۔‘
بین والیس کا کہنا تھا کہ ’جب آپ روئے زمین پر غریب ترین اقوام میں سے ہوں تو آپ کو بین الاقوامی برادری کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

افغانستان میں امریکی فوج کے سابق کمانڈر جنرل سکاٹ ملر واپس امریکہ پہنچ گئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا ’غلطی‘ 

ادھر سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا پر تنقید کرتے ہوئے اس کو غلطی قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کو ’قتل‘ ہونے کے لیے طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
بدھ کو ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے جارج بش کا کہنا تھا کہ ’افغان خواتین اور لڑکیاں ناقابل بیان نقصان اٹھانے والی ہیں۔ یہ ایک غلطی ہے۔ میرا دل دکھتا ہے کہ ان کو قربان کرنے کے لیے انہی ظالم لوگوں کے پاس چھوڑ دیا گیا ہے۔‘
یاد رہے کہ جارج بش نے بطور امریکی صدر نائن الیون حملوں کے بعد 2001 کے خزاں میں اپنی فوج کو افغانستان بھیجا تھا۔
سابق امریکی صدر نے کہا کہ ’انہیں یقین ہے کہ جرمن چانسلر اینجیلا مرکل بھی ایسا ہی سوچتی ہوں گی۔‘