طالبعلم سے بدفعلی کا کیس،عزیزالرحمان کے بیٹوں کی عبوری ضمانت منظور

 مدرسےمیں طالبعلم کےساتھ بدفعلی کرنے کے الزام میں گرفتارعزیزالرحمن کے3 بیٹوں کی 30 جون تک عبوری ضمانتيں منظور کرلی گئی ہیں۔

لاہورمیں عزیزالرحمن کے تینوں بیٹوں نے عبوری ضمانتوں کے لیے سیشن کورٹ سے رجوع کيا تھا۔عدالت نے پولیس سے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پولیس نے مقدمے میں متعدد نامعلوم افراد کو نامزد کر رکھا ہے۔

اپنےاعترافی بیان میں عزیزالرحمان نے بتایا کہ وائرل ہونےوالی ویڈیو ان کی ہے اور وہ ویڈیو متاثرہ لڑکےنےچھپ کربنائی تھی۔ عزيزالرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مدرسے کے لڑکے کو پاس کرنے کا جھانسہ دے کر بدفعلی کی لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خوف کا شکار ہوگیا تھا۔ بیٹوں نے لڑکے کو کسی سے بات کرنے سے روکا تاہم منع کرنے کے باوجود ویڈیو وائرل کردی۔

عزیزالرحمان نے مزید بیان دیا کہ مدرسہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اور اس لیے ویڈیو بیان جاری کیا تاہم انتظامیہ مدرسہ چھوڑنے کا کہہ چکی تھی اور اس لئے میانوالی میں چھپ کر رہ رہا تھا۔

پیر کو عزيز الرحمان اور ديگر ملزمان کو 4 روزہ جسمانی ريمانڈ پر پوليس کے حوالے کرديا گیا ہے۔عدالت نےعزيز الرحمان کا ڈی اين اے ٹيسٹ کرانے کا حکم ديا ہے۔عزیزالرحمان کيخلاف صابر شاہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

آئی جی پنجاب نے اس معاملے کو ٹيسٹ کيس قرار ديتے ہوئے ٹويٹ کيا ہے کہ معاملے کی سائنسی اور جديد تقاضوں کے مطابق تفتيش کی جائے گی اورملزم کوعدالت سے قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ درج ایف آئی آر کے مطابق ویڈیو لاہور میں مدرسہ جامعہ منظورالاسلامیہ کے برطرف عہدےدار مفتی عزیز الرحمان اور مدعی طالب علم کی ہے۔

متعلقہ خبریں