طوفان ٹاؤتے کے نام کا مطلب کیا ہے ؟

فائل فوٹو

دنیا بھر میں آنے والے سمندری طوفانوں کے ناموں سے متعلق اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ نام کیوں دیا گیا، یا اس کا مطلب کیا ہے، جیسے حال ہی میں بحیرہ عرب میں بننے والے طوفان ٹاؤتے کا نام ہے۔

اس طوفان کو ٹاؤتے یا یوں کہیں ٹاکٹے کا نام میانمار کی جانب سے دیا گیا ہے۔ میانمار کی مقامی برمیز زبان میں اس کا مطلب گیکو یعنی ایک ایسی چھپکلی ہے جس کی آواز بہت تیز یا وہ بہت بولتی ہے۔

میانمار کی جانب سے اس طوفان کا نام تاؤتےاس لیے تجویز کیا گیا ہے کیوں کہ طوفان بننے کے بعد نام دینے کی باری میانمار کی تھی کہ وہ سائیکلون کا نام دیں گے تو ان کی جانب سے یہ نام سامنے آیا۔

سائیکلون کے نام رکھنے کے حوالے سے جنوبی ایشیائی ممالک کا ایک پینل ہے جسے پینل اینڈ ٹروپیکل سائیکلون (پی ٹی سی) کہا جاتا ہے۔ اس پینل میں ابتدائی طور پر 7 ممالک تھے جن کی تعداد اب 14 تک بڑھ چکی ہے۔

The eye of cyclone Tauktae is now cleraly observed, says India Meteorological Department. (Image: Twitter/@Indiametdept)

ان ممالک میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، میانمار، تھائی لینڈ، مالدیپ، سری لنکا، اور اومان شامل تھے۔ تاہم بعدازاں ایران، سعودی عرب،، متحدہ عرب امارات بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔

سال 2004 سے پہلے طوفان کے اس طرح کے ناموں کی کوئی روایت نہیں تھی، اس وقت طوفانوں کو ان کے نمبر سے یاد رکھا جاتا تھا، تاہم سال 1999 میں ایک سائیکلون بدین اور ٹھٹھہ سے ٹکرایا تھا، تب اس کا نام زیرو ٹو اے تھا جو اس سیزن کا بحیرہ عرب کا دوسرا طوفان تھا۔

بعدازاں پی ٹی سی میں تمام ممالک کے محکمہ موسمیات کے درمیان یہ طے پایا کہ طوفانوں کے ایسے نام ہونے چاہئیں جو یاد رکھنے میں آسان ہوں، ادا کرنے میں سہل ہوں، جس کے بعد یہ طے ہوا تھا کہ ہر ملک ایک ایک نام دے گا۔ اس طرح 2004 میں ایک فہرست بنائی گئی جو 2020 تک رہی اور اس میں طوفانوں کے جو نام تجویز کیے گئے ان تمام کو استعمال کیا گیا۔

پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ ناموں میں نرگس، نیلوفر اور بلبل شامل تھے۔ 2020 میں فہرست کا تجویز کردہ آخری نام ایمفن تھا۔ یہ طوفان بے آف بنگال میں بنا تھا اور اس کا رخ بھارت کی جانب تھا۔

اس کے بعد نئی فہرست کے نام کا سلسلہ شروع ہوا اور حروف تہجی کے تحت سب سے پہلے بنگلہ دیش کا تجویز کردہ نام رکھا گیا۔ جس کے بعد میانمار کی باری آئی اور اس نے اس طوفان کا نام
تاؤتے رکھا جو پہلے سے تجویز شدہ تھا۔

واضح رہے کہ اگر مستقبل میں کوئی طوفان آتا ہے تو مالدیپ کا تجویز کردہ نام رکھا جائے گا جس کے بعد پاکستان کا تجویز کردہ نام طوفان کو دیا جائے گا

متعلقہ خبریں