عالمی ادارہ صحت کی تحقیقات کے بعد امریکہ کو چین کی کورونا معلومات پر ’تحفظات‘

امریکہ نے کہا ہے کہ ’اسے چین کی جانب سے کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کے ابتدائی اقدامات پر ’گہرے تحفظات‘ ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سیلوان نے بیجنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ ’وبا کے آغاز کے دنوں کا ڈیٹا بھی مہیا کرے۔‘
یہ بیان چین سے عالمی ادارہ صحت کی تحقیقاتی ٹیم کی واپسی کے بعد سامنے آیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم نے چین میں وبا کے مرکز کا دورہ کیا تھا۔
مزید پڑھیں
اس ٹیم نے تجویز دی تھی کہ ہو سکتا ہے کہ وائرس کا آغاز فروزن سمندری فوڈ کی مصنوعات سے ہوا ہو نہ کہ چین کی لیبارٹری سے۔‘
جیک سلیوان نے عالمی ادارہ صحت کی اہمیت کو تسلیم کیا تاہم ساتھ یہ بھی کہا کہ ’ادارے کی ساکھ کو بچانا ’اولین ترجیح‘ ہے۔‘
دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے روئٹر کے مطابق چین نے عالمی ادارہ صحت کی تحقیقاتی ٹیم کو کورونا وائرس سے متعلق ابتدائی اعداد و شمار دینے سے انکار کیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے ایک رکن ڈومینک ڈوایئر نے کہا کہ ’ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے ووہان سے 174 ابتدائی کیسوں کے اعداد و شمار کی درخواست کی تھی تاہم چین کی جانب سے ان کو صرف ایک سمری مہیا کی گئی۔‘

 کورونا وائرس کے کیسز ووہان میں سب سے پہلے سامنے آئے (فوٹو: اے ایف پی)
ڈومینک ڈوایئر آسٹریلیا کے وبائی امراض کے ماہر ہیں اور تحقیقاتی ٹیم کا حصہ ہیں۔
کورونا وائرس کی وبا کے مقام کا سراغ لگانے کے لیے عالمی ادارہ صحت کی ٹیم نے چین کا دورہ کیا تھا۔
ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کی ٹیم ووہان میں سی فوڈ مارکیٹ سمیت وبا کے آغاز سے منسلک بہت ساری اہم جگہوں کا دورہ کر چکی ہے جہاں لوگوں کو سب سے پہلے بیمار پایا گیا تھا۔
ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کی ٹیم وسطی چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے ایک برس بعد اس وبا کے آغاز کی تحقیقات کے لیے 14 جنوری کو چین پہنچی تھی۔