عالمی رہنما ’آزاد اور جمہوری ایران‘ کی حمایت میں جمع

یورپ اور شمالی امریکہ کے موجودہ اور سابق سیاسی رہنماؤں نے سالانہ فری ایران سمٹ میں شرکت کی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق پیر کو ہونے والے سمٹ کے دوران ان سیاسی رہنماؤں نے اسلامی جمہوریہ میں حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے نئے ایرانی صدر کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برداری پر زور دیا کہ ایرانی عوام کی مدد کے لیے مزید کوشیں کی جائیں۔
مزید پڑھیں
اس آن لائن ایونٹ کے دوران جس کا انعقاد ایران کی قومی مزاحمتی کونسل (این سی آر آئی) کی جانب سے کیا گیا تھا، عالمی رہنماؤں نے صدر ابراہیم رئیسی کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور ہزاروں سیاسی قیدیوں کے قتل میں ان کی براہ راست شمولیت پر روشنی ڈالی۔
تین روزہ سمٹ کے پہلے دن، امریکہ کے سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ سنہ 1979 کے ایرانی انقلاب نے کئی تنازعات کو جنم دیا تھا جن میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور ایرانی حکومت اور خلیجی اور سنی ممالک کے درمیان تنازعات شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک تنازع کو سمجھنا سب سے اہم ہے اور وہ ہے ایران کو تاریخ کے صحیح مقام پر بحال کرنا۔’
انہوں نے مزید کہا کہ ‘مرکزی لڑائی وہ ہے جو گلیوں، مساجد اور ایرانیوں کے ذہن میں ہو رہی ہے – یہ ایک طرف آزادی اور جمہوریت کے حصول کے لیے عوام اور منظم حزب اختلاف کے مابین تفریق ہے اور دوسری طرف پوری حکومت کھڑی ہے۔’
مائیک پومپیو کے مطابق ‘حکومت کی سربراہی، ظاہر ہے، سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای، ابراہیم رئیسی اور پاسداران انقلاب کر رہے ہیں۔ یہ اپنے جنون میں انقلابی ہیں۔ یہ سفاک ہیں۔ یہ بزدل اور بدعنوان ہیں۔’
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’وہ مغربی سوٹ پہنتے ہیں اور چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ انگریزی بولتے ہیں لیکن وہ ایک دہشت گرد ہیں جو حکومت بچانے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو قتل کر دیں گے۔‘

مریم رجاوی کے شوہر کا ایرانی حکومت کے ہاتھوں قتل ہوا تھا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے سابق وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ عالمی معاشی پابندیوں کے بوجھ نے ایران کی حکومت کو ’دہائیوں میں سب سے کمزور جگہ لا کھڑا کیا ہے’ اور جون میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں ووٹرز کی کم تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران کتنا کمزور ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بائیکاٹ ہے۔ ووٹرز کی تعداد 1979 سے کم ہے، جو کہ حکومت اور اس کے امیدواروں کو مکمل طور پر رد کرنے کی نشانی ہے۔ یہ دراصل ایک بائیکاٹ ہے اور حکومت یہ جانتی ہے۔‘
بیلجیم کے سابق وزیر اعظم گی فیروفستات کا کہنا تھا کہ ‘رئیسی کا انتخاب ایران، خطے اور دنیا کو مزید غیر محفوظ اور سخت گیر بنائے گا۔’
بیلجیم کے سابق وزیر اعظم یورپی پارلیمنٹ کے رکن اور یورپی یونین میں ایک سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سابق لیڈر ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ رئیسی ’ہمارے جمہوری اقدار سے نفرت کرتے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ ہزاروں سیاسی قیدیوں کے ماورائے عدالت قتل کے ماضی کی بنیاد پر امریکی پابندیوں کا شکار ہیں۔ اور میرے خیال میں یہ (امریکی صدر جو) بائیڈن کے لیے بہت مشکل ہوگا کہ ایک ایسے شخص کا دفاع کریں جو برے پیمانے پر قتل کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔‘
سمٹ کے شرکا میں قتل کیے جانے والے افراد کے دوست اور رشتہ دار شامل تھے۔ ان میں ایران کی قومی مزاحمتی کونسل کی لیڈر مریم رجاوی بھی شامل تھیں، جن کے شوہر کا ایرانی حکومت کے ہاتھوں قتل ہوا تھا۔
انہوں نے حکومت کی ’مذہبی فاشزم‘ پر تنقید کی اور اقوام متحدہ اور عالمی لیڈران پر زور دیا کہ وہ 1988 میں کیے جانے والے قتل پر ابراہیم رئیسی اور آیت اللہ خامنہ ای کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں جس کو انہوں نے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ’انسانیت کے خلاف جرم‘ قرار دیا ہے۔