عالمی رہنما آن لائن نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کریں: عمران خان

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے عالمی قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر نفرت اور انتہا پسندی پھیلانے والوں کے خلاف اقدامات کرے۔
سنیچر کو کنیڈین ٹی وی ’سی بی سی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عران خان نے کہا کہ ’پاکستان میں ہر کوئی صدمے میں ہے، کیونکہ ہم نے خاندان کی تصویر دیکھی ہے، اور کسی خاندان کو اس طرح ٹارگٹ کرنے سے پاکستانیوں پر گہرا اثر ہوا ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’کینیڈا کے وزیراعظم کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا ہے، کینیڈین وزیراعظم اسلامو فوبیا سے لڑنے کی اہمیت سمجھتے ہیں، اگر عالمی رہنما فیصلہ کریں ایکشن لینے کا تو یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔‘
مزید پڑھیں
وزیراعظم نے کہا کہ ’اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے جذبہ نہیں ہے اور کچھ عالمی رہنما یا مغربی ممالک کی قیادت اس معاملے کو سمجھتے نہیں ہیں۔‘
اس حملے میں چارافراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ایک نو سالہ لڑکا شدید زخمی ہوا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس خاندان کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ مسلمان تھے۔ اس خاندان نے 2007 میں پاکستان سے کینیڈا ہجرت کی تھی۔
وزیراعظم کا انٹرنیٹ پر پھیلائی جانے والی نفرت انگیزی کے بارے میں کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جب انٹرنیٹ پر انسانوں کے خلاف ایسی نفرت پھیلانے والی ویب سائٹس موجود ہیں تو عالمی سطح پر اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔‘
خیال رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’اونٹاریو کے علاقے لنڈن میں ایک پاکستانی نژاد مسلمان کینیڈین خاندان کے قتل پر بے حد افسردہ ہوں۔ دہشت گردی کا یہ قابل مذمت اقدام مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کی علامت ہے جس کے (اسلاموفوبیا) تدارک کے لیے عالمی برادری کی جانب سے کلی طور پر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔‘

سی بی سی کے مطابق کنیڈین وزیراعظم نے 2019 میں آن لائن نفرت پھیلانے کے خلاف کارروائی کے لیے ’ڈیجیٹل چارٹر‘ متعارف کروایا تھا (فوٹو اے ایف پی)
سی بی سی کے مطابق کنیڈین وزیراعظم نے 2019 میں آن لائن نفرت پھیلانے کے خلاف کارروائی کے لیے ’ڈیجیٹل چارٹر‘ متعارف کروایا تھا، لیکن اس پر تنقید ہوئی کہ حکومت اس پر عملدرآمد کروانے میں سست روی سے کام لے رہی ہے۔
حکومت ایک مرتبہ پھر اسلامو فوبیا کے خلاف کمر بستہ ہو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ممبران نے جمعے کو این ڈی پی کی تجویز پر جولائی کے آخر میں اسلاموفوبیا کے موضوع پر ہنگامی کانفرنس منعقد کرنے کے لیے ووٹ دیا۔