عالمی وباء نے قوموں کی عدم مساوات کھول کرسامنے رکھ دی

وزیراعظم کا اقوام متحدہ کے آن لائن سیاسی فورم سے خطاب

Your browser does not support the video tag.

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے کرونا وباء کے باعث پیدا ہونے والے صورتحال نے قوموں کے درمیان پائی جانے والی عدم مساوات بھی ظاہر کردی۔

اقوام متحدہ کے سیاسی فورم سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی معیشت اس وقت تک مستحکم نہیں ہوسکتی جب تک تمام ممالک بشمول امیر و غریب پائیدارترقی اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری کی رفتار کو تیز کرنے کے قابل نہ ہوجائیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی امداد اور بحالی کے کاموں کے متعرف ہیں اور احساس پروگرام کی عالمی سطح پر پذیرائی کو بھی سراہتا ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان باقی ممالک سے زیادہ خوش قسمت رہا کیوں کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اور مستحق طبقے پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کے باعث ہم کرونا وباء کے پھیلاؤ اور قیمتی جانوں کا زیاں روکنے میں کامیاب ہوئے۔وزیراعظم نے عالمی برادری کو تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ وباء کو شکست دینے لیے عالمی سطح پر تمام ممالک کو ویکسین تک آسان رسائی اور تجارت و سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترقی پزیر ملکوں کو ویکسین کی تیاری میں مدد اور فراہمی کے عمل کو بھی تیز کیا جانا چاہیے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ترقی یافتہ اقوام کی امداد قابل تحسین ہے لیکن اس ضمن میں مزید کام کی ضرورت ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک نے اپنی معیشتوں کو متحرک کرنے کےلیے 17 ٹریلین ڈالر خرچ کیے جبکہ ترقی پذیر ممالک کو اپنے اہداف کے حصول کے لیے 4 اعشاریہ 3 ٹریلین ڈالر درکار ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ ممالک درکار رقوم کے صرف 5 فیصد کا انتظام کر پائے ہیں۔

متعلقہ خبریں