عثمان مرزا کیس: ’ملزمان بلیک میلنگ سے لی گئی رقم واپس کرنے کو تیار‘

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ رقم عثمان مرزا لیتا تھا اور ساتھی ملزمان میں تقسیم کرتا تھا۔ فائل فوٹو: اسلام آباد پولیس

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لڑکے اور لڑکی پر تشدد اور ہراساں کرنے کے کیس میں مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت چاروں ملزمان کو مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔  
سنیچر کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں ملزمان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پیش کیا گیا جس میں پولیس نے دوران جسمانی ریمانڈ اپنی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کیا۔  
مزید پڑھیں
تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان نے وقتا فوقتا متاثرہ لڑکا لڑکی سے 11 لاکھ 25 ہزار روپے بلیک میلنگ کر کے لیے ہیں۔ ’یہ متاثرہ لڑکے کے گھر بندے بھیج کر پیسے منگواتے اور آپس میں بانٹ دیتے تھے۔ جبکہ واقعے کے وقت بھی جو رقم چھینی گئی وہ ملزم ادریس کے گھر سے برآمد کر لی گئی۔ دوران تفتیش ملزمان نے کہا ہے کہ 11 لاکھ 25 ہزار روپے واپس دینے کو تیار ہیں۔‘ 
عدالت کے استفسار پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ رقم عثمان مرزا لیتا تھا اور ساتھی ملزمان میں تقسیم کرتا تھا۔  
ملزم عثمان مرزا نے عدالت کے سامنے بیان دیا کہ ’میں صاحب حیثیت ہوں، پراپرٹی اور اپنا ذاتی کاروبار ہے مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں، میں حلفا کہتا ہوں کہ میں نے ایک روپیہ بھی نہیں منگوایا۔‘  
عثمان مرزا نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ’واقعے والے دن صلح بھی ہوگئی تھی، ہم نے ان کو بلایا تھا کہ ہم معذرت کر لیتے ہیں جبکہ متاثرہ فریقین نے کہا تھا کہ ہم آپ کی جگہ آئے تھے ہماری غلطی تھی۔‘  
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ویڈیو بنانے والا ملزم فرحان گرفتار ہوچکا ہے جبکہ ملزمان کی شناخت پریڈ بھی ہوچکی ہے جس میں مدعیوں نے ان کو شناخت کیا ہے۔  
تفتیشی افسر نے عدالت سے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان کی آڈیو ویڈیو کی فرانزک کروانی ہے۔  
ویڈیو بنانے والے ملزم فرحان کے وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ  اس کیس میں فرحان کا کوئی تعلق نہیں ہے، 10 روز گزر گئے میرے موکل کی آزادی چھینے ہوئی جبکہ گھر والوں سے بھی نہیں ملنے دیا جا رہا۔ ملزمان فرحان اور عطا الرحمن کو ضمانت دی جائے۔  
متاثرین کے وکیل نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دوران ریمانڈ تفتیش میں معاونت ملی ہے اور ملزمان نے تسلیم کیا ہے کہ واقعے کے وقت وہ تمام وہاں موجود تھے۔  
عدالت نے دلائل سننے کے بعد مرکزی ملزم عثمان مرزا، عطا الرحمن، ادریس بٹ اور فرحان کا مزید 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے 20 جولائی کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ 
دریں اثنا پولیس نے اس کیس مزید دو ملزمان  محب بنگش اور بلال مروت کو اسلام آباد کچہری میں عدالت میں پیش کردیا۔ پولیس نے عدالت سے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ وقار گوندل نے دونوں ملزمان کو چھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ کو 23 جولائی کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
محب بنگش اور بلال مروت کو متاثرین  نے شناخت کر لیا ہے۔