عدالت کا این او سی جاری، ’علی وزیر کی وزیرستان منتقلی کے انتظامات کیے جائیں‘

کراچی سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے زیرِ حراست رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو اُن کے آبائی علاقے وزیرستان منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
سینٹرل جیل کراچی کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے سندھ کے آئی جی جیل خانہ جات کو لکھے گئے خط میں بتایا گیا ہے کہ زیر حراست رکن اسمبلی علی وزیر کو ایک مقدمے میں عدالت کے سامنے شمالی وزیرستان میں پیش کیا جانا ہے۔
مزید پڑھیں
خط کے مطابق سندھ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزم علی وزیر کو شمالی وزیرستان کے میران شاہ تھانے کی حوالات میں منتقل کرنے کے لیے این او سی جاری کیا ہے۔
سینیئر سپرنٹنڈنٹ جیل نے خط میں درخواست کی ہے کہ محکمہ داخلہ سندھ ملزم کی شمالی وزیرستان منتقلی کے لیے ضروری انتظامات کرنے کے احکامات جاری کرے۔
انسداد دہشت گردی عدالت سندھ نے پولیس کو کہا ہے کہ دوسرے صوبے منتقل کیے جانے کے بعد جب بھی ملزم کے خلاف مقدمے کی سماعت ہو تو اس کی حاضری ویڈیو لنک کے ذریعے یقینی بنائی جائے۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے رکن اور پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ علی وزیر کے خلاف تین مختلف مقدمات درج ہیں جن میں سے دو کراچی اور ایک شمالی وزیرستان میں زیرسماعت ہے۔
کراچی کے سہراب گوٹھ اور شاہ لطیف ٹاؤن تھانوں میں درج مقدمات میں علی وزیر کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کی دفعات شامل ہیں جبکہ شمالی وزستان میں ان کے خلاف لاؤڈ سپیکر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔
علی وزیر کو 16 دسمبر 2020 کو سندھ پولیس کی درخواست پر پشاور سے گرفتار کر کے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔
انھیں چھ دسمبر 2020 کو کراچی میں نکالی گئی پی ٹی ایم کی ریلی کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور تضحیک آمیز تقریر کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔
رکن قومی اسمبلی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ علی وزیر کی صحت جیل میں خراب ہوئی ہے اور ان کو گزشتہ رات بھی جیل سے کراچی کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

علی وزیر پر سندھ اور وزیرستان  میں تین مختلف مقدمات درج ہیں۔ فائل فوٹو: نیشنل اسمبلی ٹوئٹر
سپریم کورٹ نے گزشتہ برس نومبر میں علی وزیر کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور کر لی تھی۔
جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے علی وزیر کی درخواست ضمانت پر فیصلہ کرتے ہوئے چار لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی تھی۔
نومبر میں سپریم کورٹ میں علی وزیر کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا تھا کہ ’کیا رکن قومی اسمبلی کے الزامات پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہونی چاہیے؟‘
جسٹس جمال مندوخیل نے پراسیکیوٹر سے سوال کیا تھا کہ ’علی وزیر کا ایک بھی الزام درست نکلا تب کیا ہوگا؟‘
سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ علی وزیر پر مختلف مقدمات ہیں اور کسی بھی مقدمے میں ان کی ضمانت نہیں ہوئی۔
جسٹس سردار طارق مسعود نے اس پر پراسیکیوٹر سندھ سے کہا کہ ’کسی دوسرے کیس میں ضمانت نہیں تو اسے سنبھال کر رکھیں۔‘
جسٹس سردار طارق نے پوچھا تھا کہ اگر علی وزیر کی تقریر پر دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنتا تو متعلقہ دفعہ کیوں لگائی گئی؟۔