علی انصاری سے منگنی کیسے ہوئی؟ صبور نے بتا دیا

فائل فوٹو

صبور علی اس بات پر ناخوش ہیں کہ ان کا موازنہ یا مقابلہ سجل علی سے کیا جائے، اداکارہ کا کہنا ہے سمجھ سے باہر ہے لوگ منفی کردار ادا کرنے پر ربرا بھلا بھی کہتے ہیں اور ان کرداروں کو پسند بھی کرتے ہیں۔

بی بی سی کودیے جانے والے انٹرویومیں سجل نے کیریئر اور ذاتی زندگی سمیت مختلف حوالوں سے بات کی۔

صبورکے مطابق لوگ بعض اوقات موازنے کو مقابلے میں بدل دیتے ہیں۔ میری الگ شناخت ہے اور سجل کی الگ شناخت، شکل و صورت ملانے کی حد تک توبہنوں کا ہی آپس میں موازنہ ہوتا ہے، تاہم جب کام کے حوالے سے کیا جاتا ہے تو بہت عجیب لگتا ہے۔ میری الگ محنت ہےاور سجل کی الگ۔ میرے خیال میں ہم دونوں کے اداکاری کے انداز بھی مختلف ہیں۔

انجینئر بننےکی خواہشمند صبورنے بتایا کہ سجل سے پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں زیادہ مشاورت نہیں ہوتی۔ اپنے پراجیکَٹس سے متعلق فیصلہ خود ہی کرتی ہوں۔ سجل اور میں اتفاقاً شوبز انڈسٹری میں آئے مگر سجل نے اِس کام کو بخوشی اپنایا لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے تھوڑا عجیب لگتا ہے کہ میں اس فیلڈ میں نہیں آنا چاہتی تھی، کیونکہ بہت سارے لوگ یہاں تک پہنچنے کے لیے بہت محنت کرتے ہیں۔ شوبز میں آنے کیلئے والدہ نے حوصلہ افزائی کی۔

علی انصاری سے منگنی کیسے ہوئی؟

حال ہی میں اداکارعلی انصاری کے ساتھ منگنی سے متعلق بات کرتے ہوئےصبور نے بتایا کہ علی کی بہن مریم انصاری میری اچھی سہیلی ہیں جو اکثرکہتی تھیں کہ میرے بھائی کے لیے کوئی لڑکی دکھاؤ، اور میں نے انھیں کئی لڑکیاں بتائیں بھی۔ مریم کئی بار کہہ چکی تھیں کہ تم میرے بھائی سے کیوں نہیں شادی کر لیتیں، وہ بہت نیک ہے، بہت اچھا ہے، تاہم کبھی سنجیدگی سے اس بارے میں نہیں سوچا۔ پھرسجل اورمریم کے درمیان بات ہوئی اورانھوں نے اس حوالے سے ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کو کہا۔

صبور نے ہنستے ہوئے بتایا کہ ‘ میں نے یہ کہہ دیا کہ اگر کرنا ہے تو میں فوراً کروں گی، غور و فکر یا زیادہ لمبی بات چیت نہیں کروں گی، مجھے لگا ایسا کہوں گی تو نہیں ہو گا ‘۔ منگنی والے روزبھی علی سے کہا کہ ’سوچ لو کرنا ہے یا نہیں‘۔

لوگ بُرا بھلا بھی کہتے ہیں اور انہی کرداروں کو پسند بھی کرتے ہیں

اداکارہ کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں اگرکسی اداکاریا اداکارہ کا ایک منفی کردارہٹ ہو جائے تو اسے مسلسل منفی کردار ملتے رہتے ہیں، یہ رویہ تبدیل ہونا چاہیے۔اسی لیے میں نے ’فطرت‘ کے بعد ’مجھے وداع کر‘ کِیا تاکہ لوگوں کو دونوں طرح کے کردار نظر آئیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ آپ جتنے بھی بڑے اداکار بن جائیں آپ کو ہدایتکار کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ کیونکہ میں نے تو منفی کردار میں بھی اتنی ہی محنت کرنی ہے جتنی مثبت میں کرنی ہے۔

صبور نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ لوگ ہمیں برا بھلا بھی کہتے ہیں اور انہی کرداروں کو پسند بھی کرتے ہیں، شاید لوگ ان کرداروں کے ذریعے اپنے اندر موجود اُن چیزوں کو جوڑتے ہیں جنھیں وہ خود سامنے نہیں لا سکتے، اور ہم شاید اُن کے اِسی مخفی کردارکو پیش کررہے ہوتے ہیں۔

یکسانیت کیسے بدلیں ؟

ڈراموں میں یکسانیت تبدیل کرنے کے حوالے سے صبورعلی کا کہنا تھا کہ ’ڈرامہ کو بدلنے سے پہلے دیکھنے والوں کا نظریہ بدلنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ وہ جب تک اسے قبول نہیں کریں گے ہم نئی چیز بنا ہی نہیں سکیں گے، کیونکہ یہ ایک طرح کا کاروبار ہی ہے۔ ورنہ ہمارا تو دل کرتا ہی ہے نئی چیز بنانے کا’۔

متعلقہ خبریں