علی سدپارہ اور ٹیم کی تلاش:ایف 16 طیاروں سے فوٹوگرافک سروے

فائل فوٹو

کے ٹو ورچوِئل اینڈ فزیکل بیس کیمپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ علی سد پارہ، جان اسنوری اور جے پی موہر کی تلاش کیلئے کوہ پیمائی کی تاریخ کا غیر معمولی شرچ آپریشن جاری ہے۔ ہم پاکستانی انتظامیہ ، پائلٹس، امتیار اور اکبر کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

کے ٹو ورچوِئل اینڈ فزیکل بیس کیمپ کی جانب سے 14 فروری کو جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کے ٹو پر کوہ پیمائی کی تاریخ کا غیرمعمولی سرچ آپریشن جاری ہے، جس میں تینوں لا پتا کوہ پیماؤں کی تلاش کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق ممکنہ مقامات کی سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے نشاندہی کی گئی ہے۔ سنتھٹک اپرچر ریڈار ٹیکنالوجی ( ایس اے آر ) کے ذریعے بھی معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ ریڈار کی مدد سے ہزاروں تصاویر لی گئی ہیں۔ جس کی مدد سے کوہ پیماؤں کی روانگی کے اوقات، پلان اور مقرہ پوائنٹس کو چیک کیا ، جب کہ انہیں دوبارہ بھی دیکھا جائے گا۔

پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہم نے اس آپریشن میں ایسے ماہرین کی بھی مدد لی ہے، جنہوں نے خود اپنے خدمات پیش کیں۔ اس میں چلی، آئس لینڈ اور پاکستان سے لوگ شامل ہوئے۔

اس موقع پر پریس ریلیز میں ان تمام افراد کی مدد کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔ کے ٹو ورچوِئل اینڈ فزیکل بیس کیمپ کے معاونین کا کہنا تھا کہ موسم کی سختی کے باعث جب ہیلی کاپٹرز کیلئے آپریشن مشکل ہوا تو پاکستان آرمی کی جانب سے ایف 16 طیاروں کو اس سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں استعمال کیا گیا۔

ایف 16 طیاروں میں لگے جدید سینسر اور طاقت ور کیمروں سے تصاویر بنائی گئیں اور علاقے کا سروے کیا گیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہمیں جو تصاویر ملیں وہ سلیپنگ بیگ، سلیپنگ پیڈ اور پھٹے ہوئے ٹینٹ کی تھیں۔ تصاویر میں نظر آنے والی چیزوں میں سے کوئی بھی جے پی موہر، جان اسنوری اور علی سد پارہ نہیں تھا۔

اس ٹیکنالوجی سے سلیپنگ بیگ اور ٹینٹ کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ہم گلگت بلتستان کی حکومت کے بھی شکر گزار ہیں، جب علی سد پارہ کے رشتے دار امتیاز اور اکبر کے بھہ تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔

علی سدپارہ اور لاپتا کوہ پیماؤں سے متعلق مزید معلومات پر آج اہم پریس کانفرنس کی جائے گی۔ 14 فروری کو جاری اس پریس ریلیز میں وفد کی جانب سے لوگوں سے یہ اپیل بھی کی گئی کہ اس 14 فروری کے موقع پر ان 13 بچوں کو بھی یاد رکھیں، جو اپنے والد کی راہ تک رہے ہیں۔ لاپتا کوہ پیماؤں کے خاندان کو شفقت اور محبت دیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان آرمی ایوی ایشن کی جانب سے سرویلنس آپریشن کا آغاز رواں ماہ کی 9 تاریخ کو کیا گیا تھا، جس میں سی 130 طیارے استعمال کرنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

واضح رہے کہ موسم سرما کے دوران کے ٹو سر کرنے کی مہم جوئی کے دوران علی سد پارہ، جے پی موہر اور جان اسنوری 5 فروری کو لاپتا ہوگئے تھے۔

علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے گزشتہ دنوں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے والد کے بچنے کے چانسز انتہائی کم ہیں۔

کے ٹو پر چلنے والی تیز ہواؤں کے باعث گراؤنڈ پر امدادی آپریشن بند کردیا گیا تھا۔ کوہ پیماؤں کی تلاش کیلئے پاک فوج کی جانب سے سرویلینس طیارہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا فضائی آپریشن ہوگا، تاہم سرکاری سطح پر اس کی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ۔

طیارے میں نصب یہ جدید اسکینر کیمرے سے پورے ڈیتھ زون کی عکس بندی کی گئی۔ سرچ آپریشن میں علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے بھی حصہ لیا۔ طیارے میں فاروڈ لکنگ انفرا ریڈ کیمرا سسٹم نصب ہے۔ انفرڈ ریڈار ٹیکنالوجی کی مدد سے لاپتا کوہ پیماؤں کا سراغ لگانے کی کوشش کی  گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرویلینس طیارے میں لگے کیمرے ہائی ریزولیشن ہیں جس سے فٹ بال کے برابر چیز بھی انتہائی صاف نظر آسکے گی۔ یہ سرویلینس طیارے ہیلی کاپٹر کے مقابلے میں زیادہ اونچی پرواز کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں