علی گیلانی کی ویڈیو کے بعد متنازع آڈیو، پی پی کے ناصر شاہ کی تردید

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو کا نوٹس لے لیا ہے جب کہ دوسری جانب ایک اور متنازع آڈیو سندھ سے سامنے آئی ہے جس میں سینیٹ الیکشن کے حوالے سے پیکیج کی بات ہو رہی ہے۔
آڈیو کو سندھ کے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ سے منسوب کیا جارہا ہے تاہم انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ میں گفتگو میں اس کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا یہ آواز ان کی نہیں ہے۔
اس سے پہلے ترجمان الیکشن کمیشن نے علی خیدر گیلانی کی ویڈیو سے متعلق کہا تھا کہ ’ویڈیو کی میرٹ پر تحقیقات ہو گی۔‘ 
 الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بیان کی بھی تردید کی تھی۔‘
مزید پڑھیں
الیکشن کمیشن ترجمان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری کا الیکشن کمیشن میں کسی افسر کے نہ ہونے کا بیان غلط ہے۔
’الیکشن کمیشن کی آر اینڈ آئی برانچ کھلی ہے اور متعلقہ افسران موجود ہیں۔‘
دوسری جانب فواد چودھری نے الیکشن کمیشن کی جانب سے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو کا نوٹس لینے کا خیرمقدم کیا ہے۔ فواد چودھری نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’الیکشن کمیشن نے سینیٹ الیکشن کی خریدوفروخت کی ویڈیو کا نوٹس لے لیا ہے، یہ انتہائ خوش آئند اقدام ہے اور تحریک انصاف اس کا خیر مقدم کرتی ہے ، کچھ دیر تک PDM کے امیدوار کی نااھلیت کا ریفرنس بھی الیکشن کمیشن میں دائر کر دیا جائیگا۔‘
  قبل ازیں الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو میں وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا تھا  ’ملک میں کہرام مچا ہے، ہم یہاں آئے ہیں، لیکن الیکشن کمیشن میں فوری طور پر معاملات دیکھنے کے لیے یہاں کوئی موجود نہیں۔‘
انہوں نے کہا تھا کہ علی حیدر گیلانی کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد یوسف رضا گیلانی سینیٹ کے لیے اہل نہیں رہے۔
 فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ویڈیو کے حوالے سے علی حیدر گیلانی کے اعتراف کے بعد الیکشن کمیشن کو یوسف رضا گیلانی کو نا اہل قرار دینا چاہیے۔ ’ہم گیلانی کے خلاف ریفرنس بھی دائر کرنے جا ر ہے ہیں۔‘فواد چودھری نے کہا کہ حفیظ شیخ کے نمبرز پورے ہیں اور وہی جیتیں گے۔ ’تاہم نمبرز سے قطع نظر یہ قانون کی عملداری کا معاملہ ہے اس لیے الیکشن کمیشن کو اپنا رول ادا کرنا چاہیے۔ 

 فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ویڈیو کے حوالے سے علی حیدر گیلانی کے اعتراف کے بعد الیکشن کمیشن کو یوسف رضا گیلانی کو نا اہل قرار دینا چاہیے. (فوٹو: اے ایف پی)
خیال رہے سینیٹ الیکشن سے چند گھنٹے قبل ایک نئی ویڈیو سوشل میڈیا اور نجی ٹی وی چینلز پر منظر عام پر آئی ہے جس سے ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے سوشل میڈیا اور نجی ٹی وی چینلز پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو کلپ کو سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی گیلانی سے منسوب کیا۔ 
وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کہا کہ ’یوسف رضا گیلانی کے پاس اب کوئی اخلاقی جواز نہیں بچا، انہیں فوری طور پر انتخاب سے الگ ہو جانا چاہیے۔‘

ویڈیو بھونڈا الزام، حکومت کو اپنے ہی ارکان پر اعتماد نہیں: یوسف رضا گیلانی

شہباز گل کی پریس کانفرنس کے فوری بعد علی حیدر گیلانی  نے پریس کانفرنس میں شہباز گل کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپنے والد کے لیے ووٹ مانگنا ان کا حق ہے اور کسی طور پر بھی ووٹوں کی خریدو فروخت نہیں کی ہے۔ 
دوسری جانب سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ویڈیو کو بھونڈا الزام قرار دیتے ہوئے حکومت کو اپنے ارکان پر ہی اعتماد نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ووٹ مانگنا امیدوار کا حق ہوتا ہے۔ ان کے بقول ’میں نے تو ووٹ دینے کے لیے عمران خان کو بھی خط لکھا ہے‘
ایک دن پہلے پیر کو تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی پارٹی کے تین اراکین سندھ اسمبلی  اتوار کی شام سے لاپتہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے فوری بعد پی ٹی آئی کے گھوٹکی سے رکن اسمبلی شہریار خان کا ایک وڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ جن ممبران کے اغوا ہونے کی بات ہو رہی ہے ان میں وہ بھی شامل ہیں۔

فواد چودھری نے کہا کہ ہم گیلانی کے خلاف ریفرنس بھی دائر کرنے جا ر ہے ہیں۔ (فوٹو: سکرین گریپ)
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ کی آٹھ تاریخ کو خیبرپختونخوا کے ارکان اسمبلی کی ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی تھی جو 2018 میں ہونے والے سینیٹ الیکشن سے چند روز قبل کی تھی، ویڈیو میں بعض ارکان رقم وصول کر رہے تھے، اس میں پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے ارکان واضح دکھائی دے رہے تھے۔
ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کے وزیر قانون سلطان محمد خان سے استعفیٰ لے لیا تھا۔
اس کے ساتھ حکومت کی جانب سے اوپن بیلٹ پر سینیٹ انتخابات کرائے جانے کا مطالبہ سامنے آیا اور اس حوالے سے صدر مملکت کی جانب سے ریفرنس بھی بھجوایا گیا تاہم دوسری جانب اپوزیشن خفیہ بیلٹ پر ہی بضد رہی۔
یہ معاملہ عدالت میں بھی گیا اور ایک روز قبل تک لگ رہا تھا کہ ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی کہ یہ دیکھا جا سکے گا کہ کس رکن کے ووٹ کس کو دیا، لیکن آج ہی الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وقت کی کمی کے باعث پرانے طریقہ کار کے مطابق ہی سینیٹ الیکشن کرائے جائیں گے۔
اس وقت ویڈیو کے حوالے سے سوشل میڈیا پر صارفین مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔