’عمران خان نے خواتین کو بااختیار بنایا، چند کرپٹ لبرل تنقید کر رہے ہیں‘

پاکستان کی وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ ’وزیراعظم عمران خان خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور ان پر تنقید چند کرپٹ لبرل کر رہے ہیں۔‘
منگل کو اسلام آباد میں پارلیمانی سیکرٹری ملیکہ بخاری اور ایم این اے کنول شوذب کے ہمراہ پریس کانفرنس میں زرتاج گل نے کہا کہ ’تحریک پاکستان کے بعد پہلی بار خواتین کو سیاست میں پاکستان تحریک انصاف نے متحرک کیا۔ اس کی زندہ مثال میں آپ کے سامنے بیٹھی ہوں۔‘
مزید پڑھیں
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ایک انٹرویو میں ریپ کی وجوہات کو خواتین کے لباس سے جوڑنے پر ان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
زرتاج گل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی بار ہے کہ وفاقی کابینہ میں اُن سمیت پانچ خواتین بیٹھی ہوئی ہیں۔ ’خواتین کو بااختیار بنانے کی پاکستان میں اگر کوئی علامت ہے تو وہ وزیراعظم عمران خان ہیں۔‘
زرتاج گل نے کہا کہ وزیراعظم معاشرتی روایات، اسلام اور ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کرتے ہیں لیکن ان کی مخالفت کی جاتی ہے۔ ’چند لبرل کرپٹ اپنے تصور کے مطابق ان کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کریں۔‘
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ’ہم جہاں جاتی ہیں ہمارے لیے لوگ جگہ چھوڑ دیتے ہیں اور قطار میں آگے کر دیتے ہیں۔ یہ نہیں کہتے کہ مساوی حقوق ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ آپ کو زیادہ حق ہے۔‘
پارلیمانی سیکریٹری ملیکہ بخاری نے اس موقع پر کہا کہ ’وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد بچوں اور خواتین سے زیادتی کے ملزمان کو سخت سزائیں دینے کے لیے قوانین بنائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم نے ہدایت کی تھی کہ ایسا قانون لے کر آئیں کہ خواتین سے ریپ کے کیسز چلانے کے لیے خصوصی عدالتیں بنائیں۔‘

ملیکہ بخاری نے کہا کہ ’وزیراعظم کے انٹرویو میں کہی گئی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا‘ (فوٹو: سکرین گریب)
ملیکہ بخاری کے مطابق ’وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے خواتین کی کردار کشی کو روکا جائے جس کے بعد اینٹی ریپ قوانین بنائے جائیں۔‘
’بجٹ میں اینٹی ریپ لا پر عمل درآمد کے لیے ایک سو ملین روپے مختص کیے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کی حکومت خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں دلچسپی لے رہی ہے۔‘
تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ’سوشل میڈیا پر بحث چل رہی ہے، آپ کے کہنے سے ملک کے وزیراعظم کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ توڑ مروڑ کر چیزوں کو مسخ کرنا غلط ہے۔‘