عمران خان کے دورہ سری لنکا کے بعد کورونا سے ہلاک مسلمانوں کی تدفین کی اجازت

سری لنکا نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے اقلیتی مسلمانوں کی میتیں جلانے کا حکم واپس لے لیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے دورہ سری لنکا کے دوران کولمبو پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی مسلم اقلیت کی آخری رسومات کے حق کا احترام کریں۔
مزید پڑھیں
حکومت نے پہلے اپریل میں بااثر بدھ راہبوں کی جانب سے تحفظات کی بنا پر تدفین پر پابندی عائد کر دی تھی جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ (تحفظات) بے بنیاد تھے۔
بدھ مت کے راہبوں نے تشویش ظاہر کی تھی کہ اس عمل سے زیرزمین پانی آلودہ ہو سکتا ہے اور وائرس پھیلا سکتا ہے۔
اس پالیسی کی ساؤتھ ایشین نیشن کی مسلم کمیونٹی کے ارکان نے مخالفت کی تھی جو دو کروڑ 10 لاکھ کی آبادی کا 10 فیصد ہے۔
سری لنکن وزیر صحت پوتھرا ونیاراچے نے اپنے اعلان میں اس پابندی کو ہٹانے کی وجہ تو نہیں بتائی تاہم سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے رواں ہفتے کے شروع میں صدر گوتابایا راجاپکشے اور وزیراعظم مہیندا راجاپکشے سے ملاقات میں یہ معاملہ اٹھایا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ سری لنکا کے دوران کورونا سے ہلاک ہونے والے مسلمانوں کی تدفین کا معاملہ اٹھایا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
درجنوں مظاہرین نے عمران خان کے دورے کو سری لنکن حکومت کی اس معاملے کی جانب توجہ دلانے کا موقع سمجھا تھا۔
اس پالیسی کو تبدیل کرنے پر وزیراعظم عمران خان نے سری لنکا کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’کووڈ 19 سے انتقال کر جانے والوں کی تدفین کی اجازت کے سرکاری فرمان (آفیشیل نوٹیفکیشن) کے اجراء کا خیر مقدم کرتا ہوں اور اس پر سری لنکن قیادت کا شکر گزار ہوں۔‘
57 ارکان پر مشتمل اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم او آئی سی نے بھی رواں ہفتے جنیوا میں اقوام متحدہ میں سری لنکن حکومت کی اس پالیسی پر اعتراض کیا تھا۔
سری لنکا میں مذہبی عقیدے کے مطابق تدفین پر پابندی عائد ہے جس کے باعث بہت ساری مذہبی اقلیتیں رسومات ادا نہیں کر سکتیں ان اقلیتوں میں مسلمان بھی شامل ہیں۔
یہ مسئلہ انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے بھی اٹھایا تھا اور اقوام متحدہ کی خصوصی مذہبی اور عقیدے سے متعلق تنظیم کی جانب سے سری لنکا کی حکومت سے اپیل کی گئی تھی کہ مسلم اقلیت کے تدفین کے حقوق کا احترام کیا جائے۔