عملیت پسند اور سخت گیر طالبان رہنماؤں کے درمیان اختلافات میں ’شدت‘

طالبان کی عبوری حکومت وجود میں آنے کے بعد قیادت میں پائے جانے والے اختلاف میں شدت آئی ہے۔
امریکی نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق طاقت کی کشمکش سے آگاہ دو افغان شہریوں کا کہنا ہے کہ طالبان کی کابینہ میں سب کو شامل کرنے کے حالیہ وعدوں کے برعکس 1990 میں سخت گیر طالبان حکومت کے مترادف ہے۔
یہ کشمکش پردے کے پیچھے جاری تھی۔ حالیہ دنوں میں صدارتی محل میں دو دھڑوں کے درمیان لڑائی کی افواہیں بھی عام ہوگئیں۔ یہ دعوے بھی کیے گئے کہ ملا عبدالغنی برادر ہلاک ہو گئے۔
مزید پڑھیں
یہ افواہیں اتنی تیزی سے پھیلیں کہ ملا عبدالغنی برادر کی طرف سے تحریری اور آڈیو پیغام جاری کیا گیا جس میں ہلاکت کی تردید کی گئی۔ پھر بدھ کو ملا عبدالغنی برادر نے ایک افغان ٹی وی کو انٹرویو دیا۔
انہوں نے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کابل سے باہر سفر میں تھا اس لیے اس خبر کی تردید کرنے کے لیے میڈیا تک رسائی نہیں تھی۔‘
طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ملا عبدالغنی برادر کا مرکزی کردار تھا اور اسی کے نتیجے میں افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کا انخلا ہوا۔
کابل پر قبضے کے بعد کہا جا رہا تھا کہ ملا عبدالغنی برادر شراکت داری پر مبنی حکومت بنائیں گے، لیکن ان امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب مردوں پر مشتمل کابینہ سامنے آئی۔
 سخت گیر طالبان کے اقتدار کا اشارہ اس وقت بھی ملا جب صدارتی محل سے افغانستان کا جھنڈا ہٹا کر طالبان کا سفید جھنڈا لہرایا گیا۔
طالبان ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ قیادت نے جھنڈے کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ دونوں جھنڈوں کو رکھا جائے۔
طالبان کی کابینہ سے متفق نہ ہونے والے دو افغان شہریوں نے بھی نام ظاہر نہیں کیا اور انہوں نے کہا کہ کابینہ کے ایک وزیر نے عہدہ لینے انکار کیا اور اس بات پر غصے کا اظہار کیا کہ طالبان حکومت میں اقلیتوں نسلی گروہوں کو نظر انداز کیا گیا۔

طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے قیادت کے درمیان اختلاف کی تردید کی (فوٹو اے ایف پی)
طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے قیادت کے درمیان اختلاف کی تردید کی۔ منگل کو طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ایسی رپورٹس کو ’پروپیگنڈہ‘ قرار دیا تھا۔
ملا عبدالغنی برادر اہم تقریبات سے غائب رہے۔ مثال کے طور پر رواں ہفتے قطر کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کی آمد پر صدارتی محل میں نہیں تھے۔ طالبان کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد یہ بہت اہم دورہ تھا اور ملا عبدالغنی برادر تو قطر میں سیاسی دفتر کے انچارج رہے تھے۔
تاہم بدھ کو انٹرویو میں ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ انہوں نے اس ملاقات میں اس لیے شرکت نہیں کی کیونکہ انہیں اس کا علم نہیں تھا۔ ’میں پہلے ہی کابل سے نکل چکا تھا اور واپس نہیں آ سکتا تھا۔‘
ملا عبدالغنی برادر سے واقف اور رابطے میں رہنے والے بہت سے افغان حکام اور شہریوں نے کہا تھا کہ وہ ہبت اللہ اخونذادہ کے ساتھ ملاقات کے لیے قندھار میں تھے۔
ایک اور طالبان رکن نے کہا کہ ملا عبدالغنی برادر اپنی فیملی سے ملنے گئے تھے جن سے وہ گذشتہ 20 برس سے نہیں ملے تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت طالبان قیادت کے درمیان اختلاف سنجیدہ نوعیت کا نہیں ہے۔

مائیکل کیوجیلمین نے کہا کہ ’پچھلے کئی سالوں میں ہم نے دیکھا کہ جھگڑوں کے باوجود طالبان متحد رہے (فوٹو اے ایف پی)
واشنگٹن میں موجود ولسن سنٹر میں ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین نے کہا کہ ’پچھلے کئی سالوں میں ہم نے دیکھا کہ جھگڑوں کے باوجود طالبان متحد رہے اور بڑے فیصلوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔‘
’میرے خیال میں موجودہ اختلافات پر قابو پا لیا جائے گا۔ تاہم طالبان پھر بھی دباؤ میں رہیں گے کیونکہ وہ حکومت سازی کر رہے ہیں، شناخت چاہتے ہیں اور بڑے پالیسی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر یہ کوششیں ناکام ہوئیں تو ان کے درمیان لڑائیاں ہو سکتی ہیں۔‘