غالباً بشیر میمن کچھ مسائل کا شکار ہیں، شہریارآفریدی

چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ جب تک وہ وزیر مملکت برائے داخلہ تھے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن ٹھیک کام کررہے تھے لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کچھ (ذہنی) مسائل کا شکار ہوچکے ہیں۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ جب بشیر میمن سروس میں تھے تب ان باتوں کا تذکرہ کرتے تو ہم تسلیم کرتے کہ ان میں غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ ہے لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد جو ایسی باتیں کی جاتی ہیں انہیں حوصلے کا اظہار نہیں کہا جاسکتا۔

شہریار آفریدی نے بتایا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن جب بھی وزیراعظم سے ملتے تو ٹیم کے ہمراہ ہوتے لیکن وزیراعظم کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ ان معاملات پر بشیر میمن سے گفتگو کرتے۔

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ بشیر میمن نے ایک بار کہا تھا کہ خواجہ آصف پر اقامہ رکھنے پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہئے جبکہ انہوں نے اسی موضوع پر 6 مہینے بعد کہا کہ یہ تو معمول کی بات ہے۔

رہنماء تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات اگر ہمارا ایجنڈا ہوتا تو ہم بشیر میمن کے بعد آنیوالے ڈی جی ایف آئی اے سے یہ کام کرواتے لیکن ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ میں تمام بیورکریٹس سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی غلط کام کا کہے بھی تو ان سے کہیں کہ تحریری طور پر دیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سارا کام بیوروکریٹ روکتے ہیں اور باتیں سیاستدانوں کو سننی پڑتی ہیں۔

رہنماء ن لیگ مصدق ملک نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے تو امریکا میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ میں جیلوں میں ان کے کمروں سے اے سی نکلوا دوں گا جبکہ رانا ثناء اللہ سے متعلق انہوں نے کہا تھا کہ وہ انہیں مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں ڈالیں گے۔

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ حکومت اس میں خود پارٹی ہے، بشیر میمن کے الزامات پر کمیشن بننا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت انصاف چاہتی ہے تو ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو درخواست دے کہ وہ معاملے پر بینچ تشکیل دے کر تحقیقات کرائیں۔

مصدق ملک نے مزید کہا کہ عدالت کے علاوہ اس پر ایک پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دی جاسکتی ہے، حکومت کمیٹی میں تمام ثبوت رکھے اور بشیر میمن سمیت ان تمام لوگوں کو کمیٹی میں بلائے جن پر الزمات لگے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ یہ میٹنگ ہوئی تھی یا نہیں اور آیا وہ تمام لوگ واقعی اس اجلاس میں شریک تھے۔

مصدق ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خواجہ آصف کی ضمانت والے فیصلے میں لکھا ہے کہ حکومت نیب کو ایک سایسی آلہ کار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں