غزوۂ بدر: حق وباطل کا فیصلہ کن معرکہ

ایک ہزارکفارِ لشکر کےسامنے 313مسلمان عظیم جنگ کاحصہ تھے

غزوۂ بدر کا تذکرہ رمضان المبارک میں اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ یہ غزوہ 17رمضان المبارک 2 ہجری کو لڑا گیا۔ یہ اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ تھا۔ اس معرکہ کے نتائج سے سب سے زیادہ دل گرفتہ لوگ مشرکین اور یہود تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو مسلمانوں کے غلبے و سربلندی کو اپنی مذہبی اور اقتصادی وجود کے لیے ایک مستقل خطرہ محسوس کرتے تھے۔

سترہ رمضان 6ھجری کو غزوہ بدر کا مشہور واقعہ پیش آیاجس میں مسلمان کل313 تھے، جس میں سے 60 مہاجرین اور 253 انصار تھے۔ جن کے پاس کل 2گھوڑے، چند تلواریں اور 70 اونٹ تھے۔

 بے نظیر و بے مثال لشکر 16رمضان المبارک بہ روز جمعرات 2 ہجری کو میدان بدر پہنچ گیا۔ ادھر مکہ معظمہ سے قریشِ مکہ بڑے سازوسامان کے ساتھ نکلے تھے۔ ایک ہزار آدمیوں کا لشکر تھا۔ سو سواروں کا رسالہ تھا۔ رئوسائے قریش سب شریکِ جنگ تھے اور اُمرائِ قریش باری باری ہر روز دس دس اونٹ ذبح کرتے تھے۔ عتبہ بن ربیعہ جو قریش کا سب سے معزز رئیس تھا، اپنی اس طاغوتی فوج کا سپہ سالار بنایا گیا تھا۔

میدانِ بدر میں لشکر اسلام کے پاسبان و محافظ اور جان باز و جان نثار سپاہی کچھ اس بے جگری سے لڑے کہ تھوڑے ہی عرصے میں کفار کی کثرت کو کچل کر واصل جہنم کر دیا۔

لشکر اسلام میں سے صرف 14 خوش نصیب سرفروش مجاہدوں نے شہادت کا عظیم منصب حاصل کیا اور جنت الفردوس میں داخل ہوگئے، جن میں سے چھ مہاجرین اور آٹھ انصار تھے۔

متعلقہ خبریں