غوث علی شاہ بھی پی ٹی آئی میں شامل، سندھ کی سیاست میں کیا پک رہا ہے؟

نواز شریف کے سیاسی سفر میں کچھ چہرے ہمیشہ ان کے ارد گرد ایسے رہے ہیں جیسے ان کے بغیر ان کا وجود ناممکن لگے۔ کبھی تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ یہ چہرے نواز شریف کی شبیہہ سے الگ ہوں گے، لیکن پھر یکا یک ایک فضا بنتی ہے اور جو لوگ نواز شریف اور ان کی جماعت کے روح رواں سمجھے جاتے ہیں وہ اپنے رستے ایسے جدا کرتے ہیں جیسے کبھی وہ ان کے قریب رہے ہی نہ ہوں۔ 
ایسے ہی چہروں میں سے ایک چہرہ سید غوث علی شاہ کا بھی ہے جو ایک مدت سے مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے لیے لازم و ملزوم رہا ہے۔ کبھی ان کی اپنی جماعت کی قیادت سے تلخی ہوئی بھی تو اس کے بعد وہ دوبارہ ان کے اتنے قریب ہو گئے کہ پھرکبھی جدائی کا شائبہ نہ ہوا۔ 
لیکن بہت سے دوسرے ایسے رہنماوں کی طرح نواز شریف کی کابینہ کے اہم رکن اور صوبہ سندھ میں ان کی جماعت کی علامت سمجھے جانے والے سید غوث علی شاہ بھی اب مسلم لیگ نواز کو خدا حافظ کہہ کر اس کی سب سے بڑی مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف میں چلے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
یکم جنوری 1934 کو صوبہ سندھ کے ضلع خیرپور کے گاوں گاہڑی موہری میں پیدا ہونے والے 87 سالہ سید غوث علی شاہ  نے اپنا کیریئر ایک فوجداری وکیل کی حیثیت سے کیا اور بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ کے جج بھی رہے۔ وہ نواز شریف کے مختلف ادوار حکومت میں وزیر دفاع، وزیر تعلیم اور صوبہ سندھ کے وزیر اعلٰی بھی رہے۔ اور ان کے ساتھ جیل میں بھی رہے۔ 
لیکن سینیئر سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق جیل سے ہی ان کے نواز شریف سے اختلافات کی بنیاد پڑی جب مشرف دور میں نواز شریف انہیں اور دوسرے رہنماووں کو قید میں چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے۔ اس واقعے کے بعدغوث علی شاہ نواز شریف  سے بد ظن ہو گئے، لیکن بعد ازاں ان کے قریبی ساتھیوں نے نواز شریف سے ان کی صلح کروا دی اور پھر 2000 کی پہلی دہائی میں یہ دونوں لندن میں بھی ساتھ ساتھ رہے۔
سندھ میں علاقائی، صوبائی اور قومی سیاست پر گہری نگاہ رکھنے والے سینیئر صحافی سہیل سانگی کہتے ہیں کہ ضیا ٗالحق نے غوث علی شاہ کو پہلے سندھ ہائی کورٹ کا جج اور پھر وزیراعلٰی سندھ بنایا، کیونکہ ضلعی بار کی سیاست کے زمانے سے ہی وہ پیپلز پارٹی کے سید قائم علی شاہ کے مخالف بن گئے تھے اور پیپلز پارٹی کے خلاف ہونا ان کے لیے نیک شگون ثابت ہوا۔
لیکن سہیل سانگی کے مطابق غوث علی شاہ سندھ کے کوٹے پر اعلٰی عہدہ حاصل کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ قربت اور دوستی کے زمانے میں بھی پیر پگاڑا اور نواز شریف کو بائی پاس کر کے اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست قریبی تعلقات استوار کرنے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔
تاہم تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ان کی پی ٹی آئی میں شمولیت سندھ کی سیاست میں کوئی بڑا بھونچال نہیں لا سکے گی۔
وفاقی دارالحکومت میں کئی دہائیوں سے پارلیمانی اور سیاسی رپورٹنگ کرنے والے دی نیوز اخبار کے سینیئر کارسپانڈنٹ طارق بٹ کے خیال میں سید غوث علی کے خاندان کے اندر اختلافات کے باعث اب ان کی سیاسی حیثیت غیر معمولی نہیں رہی۔   

حال ہی میں سندھ کے ایک اور سابق وزیر اعلٰی ارباب غلام رحیم نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت حاصل کی (فوٹو: گورنر ہاؤس)
ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف بھی کافی عرصے سے غوث علی شاہ کو وہ اہمیت نہیں دے رہے تھے اور ان کا شمار جماعت کے خفا رہنماوں میں ہوتا تھا۔ اور ان کی تحریک انصاف میں جانے کی یہی وجہ ہو سکتی ہے۔ 
غوث علی شاہ کا پی ٹی آئی کو کیا فائدہ ہو گا؟ 
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ غوث علی شاہ کا شمار مسلم لیگ کے نظریاتی کارکنوں میں ہوتا تھا اور وہ ہمیشہ علامہ اقبال اور قائداعظم کے نظریات کی بات کرتے تھے، لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے مسلم لیگ نواز کی طرف سے انہیں نظر انداز کرنے کے بعد انہوں نے اب پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر کے ایک آخری کوشش کی ہے۔  
ان کے خیال میں غوث علی شاہ کا پی ٹی آئی میں جانا اس لیے معنی خیز ہو سکتا ہے کیونکہ حال ہی میں سندھ کے ایک اور سابق وزیر اعلٰی ارباب غلام رحیم نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت حاصل کی ہے اور یکے بعد دیگرے دو سابق وزرائے اعلٰی کا ایک سیاسی جماعت میں چلے جانا صوبائی سیاست پر اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ 
سہیل سانگی کہتے ہیں کہ غوث علی شاہ مقامی طور پر اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ وہ کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ اور اگر سندھ میں پی ٹی آئی اگلی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آتی ہے تو ارباب غلام رحیم انہیں وزیر اعلٰی نہیں بننے دیں گے۔ 
سہیل سانگی کے مطابق غوث علی شاہ کے علاقے میں پیپلز پارٹی کے خلاف جتنا بھی ووٹ بینک ہے وہ پگاڑا گروپ کے پاس ہے۔ اور اس سے ہٹ کر پیپلز پارٹی کے خلاف جانے والے اتنے ووٹ نہیں ہیں جس کی وجہ سے غوث علی شاہ اپنا الگ مقام بنا سکیں۔ ان کے نزدیک غوث علی شاہ کے خاندان کے اندر جائیدادوں اور دوسرے جھگڑوں کی وجہ سے بھی ان کی پوزیشن کمزور ہے۔ 
طارق بٹ کے مطابق سید غوث علی شاہ کی پی ٹی آئی میں شمولیت اس کے علاوہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ تحریک انصاف نے سندھ کا ’ایک بڑا دانہ‘ اٹھا لیا ہے۔