غیرمتوقع سکیورٹی صورتحال، پاکستان سے متصل انڈین ریاستوں کا سفر نہ کریں: کینیڈا

ہر سال لاکھوں غیرملکی سیاح انڈیا کا رخ کرتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

کینیڈین حکومت نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ’غیرمتوقع سکیورٹی صورتحال‘ اور ’بارودی سرنگوں کی موجودگی‘ کی وجہ سے اُن انڈین ریاستوں کے سفر سے گریز کریں جو پاکستان کی سرحد سے متصل ہیں۔
منگل کو کینیڈین حکومت کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ٹریول ایڈوائزری یعنی سفری ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ریاست گجرات، پنجاب اور راجستھان میں پاکستان کی سرحد کے قریب 10 کلومیٹر کے اندر علاقوں کا سفر نہ کریں۔
مزید پڑھیں
اس ٹریول ایڈوائزری میں واہگہ بارڈر کی راہداری شامل نہیں ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کی سطح میں اچانک کسی بھی قسم کی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفر کرتے وقت آپ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے عہدیداروں کو اگر معلوم ہو جائے کہ آپ نے حال ہی میں کسی ایک ملک کا سفر کیا ہے تو آپ سے پوچھ گچھ ہو سکتی ہے۔‘
ایڈوائزری کے مطابق لائن آف کنٹرول پر بھی صورتحال غیرمستحکم ہے۔
کینیڈین حکومت نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ ’دہشت گردی کے خطرے‘ کے پیش نظر انڈیا میں احتیاط برتیں اور انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سمیت آسام منی پور اور مشرقی انڈیا میں ماؤ نواز عسکریت پسندوں کی موجودگی کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
’شمال مشرقی ریاستوں آسام اور منی پور میں متعدد عسکریت پسند اور باغی گروپ سرگرم ہیں۔‘

کینیڈین حکومت کے مطابق شہریوں کو انڈیا اور پاکستان کا سفر کرتے وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
کینیڈین حکومت نے انڈیا کا سفر کرنے والی خواتین کو ہدایت کی ہے کہ غیرملکی خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے اس لیے گوا اور دہلی کے شہروں سمیت پبلک ٹرانسپورٹ، یوگا سینٹرز، آشرم اور دیگر مقامات پر بھی ہوشیار رہیں۔  
انڈین ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق نئی دہلی نے 23 ستمبر کو کینیڈا میں رہائش پذیر اپنے شہریوں اور طلبہ کے لیے بھی ایک ایڈوائزری جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بڑھتے ہوئے جرائم اور انڈین مخالف سرگرمیوں سے متعلق چوکنا رہیں۔