فائزعیسٰی نظرثانی کیس،درخواست گزارکی سماعت براہ راست دکھانےکی استدعا

جسٹس قاضی فائزعیسٰی نظرثانی کیس میں وکیل منیراے ملک کی بیماری کے باعث جسٹس فائزعیسٰی نے خود دلائل دیےاور کہا کہ میری اور اہلخانہ کی تضحیک کی گئی۔ انھوں نےنظرثانی درخواستوں پرسماعت براہ راست ٹی وی پردکھانےکی استدعا کردی۔

پیرکوجسٹس قاضی فائزعیسیٰ نظرثانی کیس میں جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپیریم کورٹ میں فل کورٹ سماعت ہوئی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ججز ڈریس کوڈ کے بغیرعدالت آئے۔سرینا عیسٰی اور بیٹی  بھی کمرہ عدالت میں موجود رہیں۔

درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے وکیل منیر اے ملک کی بیماری کے باعث خود دلائل دیے اورکہا کہ مئی 2019 سے ہم بہت کچھ بھگت رہےہیں۔ہمیں عوامی سطح پرالزام تراشیوں کا سامنا ہے،اہلیہ نےبہت کچھ سنا جو ان کے ساتھ زیادتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ نظرثانی درخواستوں پر سماعت براہ راست دکھائی جائے اور اس سلسلے میں پی ٹی وی اور پیمرا کو کوریج کا حکم دیا جائے۔ جاننا چاہتا ہوں کہ حکومت میری درخواست کی مخالفت کرتی ہے یا نہیں۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیےکہ آپ کی درخواست اپنی نوعیت کی سب سے الگ درخواست ہے۔ ہمارے سامنے ایسا کوئی مواد نہیں کہ آپ کی تضحیک کی گئی۔براہ راست کوریج پرفی الحال نوٹس نہیں کررہےاوررولز کے مطابق آپ کے وکیل کا پیش ہونا لازمی ہے۔منیراے ملک تحریری طور پر بیماری سے آگاہ کریں اور لکھ کر دیں کہ وہ نظرثانی درخواستوں پردلائل نہیں دیں گے۔ رولز کو کسی کے لیے نرم نہیں کرسکتے۔کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ خبریں