فراعین مصر کے زمانے کی شراب ساز فیکٹری دریافت

مصر کے محکمہ اثار قدیمہ نے کھدائی کے دوران ’فراعین مصر‘ کے زمانے کی شراب ساز فیکٹری دریافت کرلی ہے جہاں آج سے لگ بھگ 5 ہزار سال قبل ایک وقت میں 22 ہزار لیٹر شراب تیار کی جاتی تھی۔

یہ قدیم باقیات مصر کے جنوب میں سوھاج گورنری میں ملی ہیں جو فراعین مصر کے دور کی دیگر قدیم ترین باقیات میں ایک اور اضافہ ہے۔

مصری محکمہ آثار قدیمہ نے ‘فیس بک’ پر اپنے اکاؤنٹ سے شراب کی اس قدیم ترین فیکٹری کی باقیات کی تصاویر اور تفصیلات شائع کی ہیں۔

بیان میں کہا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ آثار قدیمہ اور شراب کے کارخانے کی باقیات ‘نارمر’ (نعرمر) کے زمانے کے ہیں۔ یہ مصری فراعنہ کے سلسلے کے ایک بادشاہ تھے جن کا زمانہ 3273 اور 2987 قبل مسیح ہے۔ یہ اسرات کے عہد کا ابتدائی دور ہے۔

برطانوی ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق اس کارخانے کے کچھ حصے بیسویں صدی کے اوائل میں بھی سامنے آئے تھے تاہم ان کے زمانے کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔

یہ کارخانہ 8 مختلف حصوں پر مشتمل ہے۔ تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ ان آٹھ الگ الگ مقامات پر شراب کے تیاری کے مختلف یونٹ قائم تھے۔ یہاں پر 40 مٹی کے حوض ہیں۔ پانی اور اناج کو آپس میں ملانے کے لیے دو الگ الگ لائنوں میں حوض قائم کیے گئے۔

ریسرچ مشن کے چیئرمین ڈاکٹر ماتھیو آدمز کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس کارخانے میں ایک وقت میں 22 ہزار لیٹر شراب تیار کی جاتی تھی۔

متعلقہ خبریں