فردوس شمیم نقوی نے استعفیٰ دے دیا

فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کردیا۔

پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے 29 جون بروز منگل کو مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ کل بروز بدھ 30 جون کو تحریری استعفیٰ دوں گا۔

فردوس نقوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسمبلی رکنیت سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ ہماری جماعت کیساتھ کیے گئے ناروا سلوک کے باعث ہے۔ فردوس نقوی کے مطابق ہمارے اراکین کو آج صوبائی اسمبلی میں آنے نہیں دیا گیا۔ اس سے قبل ہمارے رہنماؤں کو اسمبلی سیشن کے دوران مائیک کھولنے کی اجازت تک نہ دی گئی۔

انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں اپنے حلقے کی خدمات نہیں کرسکا، جس کا افسوس ہے۔ یہ اسمبلی آج سے غیر جمہوری ہوگئی ہے، آج ہمارے 5 ایم پی ایز کو اسمبلی کے اندر نہیں جانے دیا گیا۔ ایوان میں اپوزیشن کو کردار ادا نہیں کرنے دیا جا رہا۔ اگر سڑکوں پر ہی احتجاج کرنا ہے تو پھر ایوان کی رکنیت نہیں چاہیے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں سے متعلق جعلی نوٹی فیکیشن وائرل ہونے اور ان کے صوبائی اسمبلی میں داخلے پر پابندی کے خلاف منگل کو اسمبلی ہال کے باہر احتجاج کیا گیا۔ اراکین نے احتجاجاً اسمبلی گیٹ پر داخلے سے روکنے پر دھرنا بھی دیا گیا۔

پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے اسمبلی کے مین گیٹ پر لگا تالا توڑنے کی کوشش کی گئی، اس دوران پی ٹی آئی رکن عدیل احمد دروازے کے اوپر چڑھ گئے، جب کہ رکن اسمبلی شبیر قریشی، ریاض حیدر اور عبدالرشید دروازہ پھلانگ کر اسمبلی میں داخل ہوئے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز 28 جون کو اسپیکر سندھ اسمبلی کے جعلی دستخط کے ہمراہ ایک نوٹی فیکیشن وائرل ہوا تھا، جس میں یہ درج تھا کہ حکومتی ارکان پر سندھ اسمبلی کے اندر داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

معاملے پر اسپیکر صوبائی اسمبلی آغا سراج درانی کا کہنا تھا کہ مجھے بھی یہ جعلی نوٹی فکیشن بھیجا گیا۔ اس نوٹی فیکیشن میں حکومتی ارکان پر پابندی عائد کرنے کا لکھا گیا۔ اسپیکر کے دستخط کے ساتھ جعلی نوٹی فکیشن وائرل کیا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی گزشتہ سال دسمبر میں پی ٹی آئی رہنما نے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ذاتی وجوہارت کے باعث عہدے سے مستعفیٰ ہو رہا ہوں۔ وہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 101 سے منتخب ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں