فردوس عاشق کےخلاف مقدمہ درج کرنےکی درخواست مسترد

پی ٹی آئی رہنما فردوس عاشق اعوان کے خلاف قادر مندوخیل کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کردی گئی ہے۔

سٹی کورٹ میں ایڈیشنل سیشن عدالت میں فردوس عاشق اعوان کی جانب سے ایم این اے قادر مندوخیل کو تھپڑ مارنے کے کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے فردوس عاشق اعوان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں فردوس عاشق اعوان نے مجھے تھپڑ مارا اور تشدد کیا۔ فردوس عاشق اعوان نےغلیظ گالیاں دیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔قادرمندوخیل نے درخواست میں یہ بھی بتایا کہ اس واقعے سے میرے ووٹرز اور اہل خانہ کو شدید صدمہ پہنچا۔

عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 179 کے تحت جہاں جرم ہو وہیں ٹرائل ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا ہے اور درخواست گزار کو وہیں  کے پولیس اسٹیشن سے رجوع کرنا چاہیے۔عدالت نے دائراختیار کے لحاظ  سے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا۔ حکم نامے میں یہ بھی درج ہے کہ درخواست گزار متعلقہ قانون کے مطابق متعلقہ فورم سے رجوع کرسکتا ہے۔

 دس جون کو پی ٹی آئی کی رہنما فردوس عاشق اعوان اور پی پی پی کے قادر مندوخیل ایک ٹاک شو میں مدعو تھے۔ اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاسی نوعیت کی بحث شدت اختیار کرگئی۔ دونوں جانب سے تیز لہجے میں ایک دوسرے کے خلاف سخت الزامات عائد کئے گئے۔اس دوران پروگرام کے اینکر نے دونوں کو خاموش کروانے کی کوشش کی مگر بات بڑھتے ہوئے ہاتھا پائی تک جاپہنچی۔

گیارہ جون کو سماء کے پروگرام آواز میں گفتگو کرتے ہوئے قادرمندوخیل کا کہنا تھا کہ پروگرام کے دوران فردوس عاشق نے مجھے گالیاں دی جس پر چینل کو بریک لینا پڑا لیکن وہ اس کے بعد بھی گالیاں دیتی رہیں۔
قادرخان مندوخیل کا مزید کہنا تھا کہ جب میں باہر نکل رہا تھا تو فردوس عاشق اعوان نے مجھے پیچھے سے کالر سے پکڑا جس پر مجھے جلدی سے دوازہ کھول کر گاڑی کی طرف جا کر خود کو بچانا پڑا۔

متعلقہ خبریں